ایران: موساد کے بڑھتے اثرورسوخ پر شدید تشویش، شہریوں کو محتاط رہنےکی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے ملک کے شہریوں کو دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی بھرتیوں سے خبردار کیا ہے۔

ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد ایران میں اپنے قدم جما چکا ہے، خصوصاً جب سے دونوں ممالک ایک طویل غیر اعلانیہ جنگ میں ملوث ہیں۔ حالیہ مہینے اسرائیل نے ایران کے خلاف بارہ روزہ فضائی مہم کے دوران ایرانی عسکری اور جوہری پروگرام سے منسلک کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا۔

اس 9 روزہ غیر معمولی کشیدگی کے دوران اسرائیلی انٹیلی جنس نے خصوصی طور پر پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔

17 جوہری ماہرین کا قتل

اسرائیلی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق 13 جون کے بعد سے اسرائیل نے فضائی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور بم نصب گاڑیوں کے ذریعے تقریباً 17 ممتاز ایرانی جوہری ماہرین کو ہلاک کیا۔

دوسری جانب ایران میں سکیورٹی ادارے مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل سے روابط رکھنے والے درجنوں "ایجنٹوں اور جاسوسوں" کو گرفتار کیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ساری کارروائیاں برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں، جن میں موساد نے ایرانی سرزمین پر باقاعدہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔

موساد کی ایران میں موجودگی

اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ موساد کی خصوصی ٹیمیں ایران میں داخل ہو چکی ہیں اور انہوں نے مقامی گروپوں کو تربیت دی ہے۔ ساتھ ہی مختلف تجارتی کمپنیوں کے ذریعے حساس آلات بھی ایران منتقل کیے گئے ہیں، جنہیں ان کمپنیوں کی لاعلمی میں استعمال کیا گیا۔

یہ طریقۂ کار لبنان میں حزب اللہ کے خلاف گزشتہ موسمِ گرما میں کیے گئے حملوں سے مشابہت رکھتا ہے، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

یہ تمام کارروائیاں اسرائیل کی ان طویل المدتی کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ہر ممکن طریقے سے روکنا ہے۔ اس میں ٹارگٹ کلنگز کے ساتھ ساتھ سائبر حملے بھی شامل ہیں، جن کے تحت ایران کی جوہری تنصیبات کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں