کریملن نے کہا ہے کہ اگر روسی اور امریکی صدور ستمبر میں ایک ہی وقت میں بیجنگ کا دورہ کرتے ہیں تو ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ پوتین دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی 80 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کریں گے لیکن انہوں نے کہا کہ ماسکو کو معلوم نہیں کہ آیا ٹرمپ بھی شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دونوں صدر ملاقات کر سکتے ہیں یا امریکی صدر چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کر سکتے ہیں تو پیسکوف نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم بیجنگ کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں اور ہمارے صدر اس سفر کی تیاری کر رہے ہیں ، لیکن ہم نے نہیں سنا کہ صدر ٹرمپ بھی وہاں جائیں گے۔
پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر ٹرمپ جاتے ہیں تو ہم یقینی طور پر ملاقات کی افادیت کے معاملے کو اٹھانے کا امکان رد نہیں کرتے۔ اخبار ’’ ٹائمز‘‘ نے گزشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ چین ٹرمپ اور پوتین کے درمیان ایک سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے دونوں صدور کم از کم چھ بار بات چیت کر چکے ہیں۔ کریملن نے ان کے درمیان براہ راست ملاقات کی حمایت کی ہے لیکن اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ نتائج حاصل کرنے کے لیے محتاط تیاری کی ضرورت ہوگی۔
ٹرمپ نے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی طرف کوئی پیش رفت نہ ہونے پر روسی صدر سے مایوسی کا اظہار کیا تھا اور اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ہمیں پوتین کی طرف سے بہت سی بکواس کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر ماسکو امن معاہدے پر راضی نہیں ہوتا ہے تو وہ 50 دن کے اندر روس اور اس کی اشیاء درآمد کرنے والے ممالک پر نئی پابندیاں عائد کریں گے۔ یہ ڈیڈ لائن ستمبر کے اوائل میں ختم ہو رہی ہے جو بیجنگ میں ہونے والی جنگ کے خاتمے کی سالگرہ کی تقریبات کے بھی موافق ہے۔