مراکش کے شمالی شہر ناظور کے قریب واقع علاقے زایو میں اتوار کی شب ایک گھریلو تقریب اس وقت افسوسناک سانحے میں بدل گئی جب مہمانوں کو پیش کی جانے والی روایتی مٹھائی میں شیشے کے نوکیلے ذرات پائے گئے۔
حادثے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ زخمیوں کو مٹھائی کھانے کے بعد منہ اور حلق سے خون بہنے، نگلنے میں تکلیف اور شدید اندرونی درد جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر زایو کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ تین شدید زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کے لیے ناظور کے الحسنی ہسپتال روانہ کیا گیا۔
ادھر واقعے کے بعد حکام نے ضلعی پراسیکیوشن کی نگرانی میں فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ شیشہ مٹھائی میں کیسے اور کہاں سے شامل ہوا،اور یہ خطرناک مواد مہمانوں کی میز تک کیسے پہنچا۔
"یہ حادثہ نہیں ہو سکتا"
واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا، جہاں صارفین نے مٹھائی فراہم کرنے والے افراد اور تقریب کے منتظمین کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ"خوشیوں بھری ایک رات جرم میں بدل گئی۔ آخر کون مٹھائی میں شیشہ ڈال سکتا ہے؟ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا"۔
ایک اور صارفہ نے تبصرہ کیا کہ"جس کسی کا بھی اس سانحے میں ہاتھ ہے، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انسانی جانوں کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے"۔
اس سانحے کے بعد عوامی سطح پر تقاضا کیا جا رہا ہے کہ تقریبات خاص طور پر شادی بیاہ جیسے مواقع پر حفظان صحت اور سکیورٹی کے معیارات پر نظرثانی کی جائے اور مٹھائی بنانے والے مراکز اور کھانے کے فراہم کنندگان پر کڑی نگرانی کی جائے۔