اسرائیلی انسانی حقوق گروپ بھی غزہ میں نسل کشی کا اعتراف کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انسانی حقوق کے اسرائیلی گروپ [بیتسلیم] نے بھی غزہ میں جاری جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا ہے اور اس امتناعی تصور کو ختم کر دیا ہے کہ کوئی اسرائیلی اپنے ملک یا فوج کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی پر زبان نہیں کھولے گا۔

انسانی حقوق گروپ 'بیتسلیم ' اور 'فزیشیئن فار ہیومن رائٹس' نے یروشلم میں مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ نیز اسرائیل یہ کارروائیاں مربوط طریقے سے کر رہا ہے۔

بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق گروپ بائیس ماہ سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہیں۔ تاہم اسرائیل اس امر کی تردید کرتا ہے۔

خیال رہے اسرائیل میں نسل کشی کا الزام انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی وجہ ہولوکاسٹ قرار دی جاتی ہے۔ اسرائیلی فوج نسل کشی کے ان الزامات کو یہود دشمنی قرار دیتی ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق گروپ 'بی تسلیم' کے بین الاقوامی ڈائریکٹر سریط مائیکل نے کہا رپورٹ میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قانونی، سماجی خطرات کے علاوہ میڈیا سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ میں ان خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

مائیکل نے کہا 'ایسا پہلی بار نہیں ہے کیونکہ ہم حکومتی سطح اور سوشل میڈیا سے سامنے آنے والے حملوں سے بھی آگاہ ہیں اور اس کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم اسرائیل کے دفتر اور وزارت خارجہ نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

تاہم پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا اسرائیل میں اظہار رائے کی آزادی ہے۔ تاہم انہوں نے اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں