ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے... تاہم اس کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے باور کرایا ہے کہ ان کی فوجیں جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کریں گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے آج بروز جمعرات اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ جب تک اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کا تقاضا ہے، ہم جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "جب تک میں اسرائیل کی حکومت کا سربراہ ہوں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔"
اس کے علاوہ نیتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ "اہم تعلقات" کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے تہران کے ساتھ مفاہمت کی ہے اور ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھل کر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق "تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ہمیں مزید چیلنجوں کا سامنا ہے، جن کے لیے ٹھنڈے دل و دماغ سے اندازہ لگانے اور اسرائیل کے سکیورٹی مفادات کے مضبوط دفاع کی ضرورت ہے... اور ساتھ ہی ساتھ اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ اہم تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جو اس لڑائی میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ واشنگٹن کے ساتھ شراکت داری کی گہرائی سے قدر کرتے ہیں"۔
دوسری طرف امریکہ میں اسرائیلی سفیر یحییٰ لیٹر نے حزب اللہ کو اس کے حملے جاری رکھنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کو لبنان کا مستقبل طے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس کے علاوہ انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کل سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے 60 روزہ مذاکرات میں ایرانی میزائلوں پر بات چیت کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کو زیادہ عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور شاید وہ آئندہ انتخابات میں ان کی حمایت کر سکیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ انتخابات میں ان (نیتن یاہو) کی حمایت کر سکتے ہیں لیکن انہیں دوسرے امیدواروں کو بھی دیکھنا ہو گا۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے تصدیق کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں اور ان سے عقل مندی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے فوراً بعد سامنے آئے ہیں کہ وہ جنوبی لبنان میں نام نہاد سکیورٹی زون میں پھیلی ہوئی ہے، جو تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر محیط ہے۔ یعنی اس میں درجنوں سرحدی قصبے اور دریائے لیطانی کے جنوب کا علاقہ شامل ہے۔
یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکام نے آج کے روز انکشاف کیا کہ تل ابیب جنوب میں اسرائیلی فوجیوں کی تعیناتی جاری رکھنے کی کوششوں کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جیسا کہ روئٹرز نے رپورٹ کیا۔ اعلیٰ سطحی عہدے دار نے کہا کہ اسرائیل واشنگٹن کے ساتھ "سخت مذاکرات" کر رہا ہے تاکہ جنوبی لبنان میں اپنی فوج کی تعیناتی جاری رکھی جا سکے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ تل ابیب "اپنے ان موقفوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا جن میں لبنان میں دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقے میں فوج کو تعینات رکھنا شامل ہے"۔
دریں اثنا دوسرے اسرائیلی عہدے دار نے وضاحت کی کہ مذاکرات کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے موقف پر اصرار کریں گے اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکی دیں گے اگر وہ ایران کے ساتھ عارضی معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کی جانب سے ایرانی رہنما علی خامنہ ای کے قتل کے جواب میں 2 مارچ کو اسرائیل کے شمالی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد جنوبی دیہات میں اپنی در اندازی اور جارحیت کو وسیع کر دیا تھا۔
اسرائیل نے تب سے لبنان پر تباہ کن فضائی اور زمینی مہم شروع کر رکھی ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس کا مقصد حزب اللہ تنظیم کا خاتمہ کرنا ہے۔
تاہم کل ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط نے نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ اسرائیلی اور امریکی ذرائع نے پہلے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے لبنانی سرزمین پر اسرائیلی بمباری جاری رہنے پر ناراضی ظاہر کی تھی، جس سے امریکی ایرانی معاہدے کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا تھا۔
-
لبنان، اسرائیل مذاکرات میں انخلا کے مرحلہ وار پلان پر غور متوقع
لبنان میں عوام کی نظریں آئندہ بدھ 22 جون 2026 کو واشنگٹن میں ہونے والے لبنان اور ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج کا لبنان کے اندر 10 کلومیٹر تک پیش قدمی جاری رکھنے کا اعلان
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج جنوبی لبنان کے اندر 10 کلومیٹر کی ...
بين الاقوامى -
لبنان پر اسرائیلی حملوں میں عالمی چیمپئن سمیت 3 افراد جاں بحق
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود جس میں لبنان سمیت ...
بين الاقوامى