سوشل میڈیا پر غزہ کی حمایت،فلسطینی طالبہ کو اپنی تعلم فرانس میں ادھوری چھوڑنا پڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ سے فرانس جا کر تعلیم حاصل کرنے والی ایک فلسطینی طالبہ کو اپنی تعلم فرانس میں راستے میں چھوڑنا پڑ گئی ہے۔ یہ سٹوڈنٹ فرانس میں سکالر شپ پر زیر تعلیم تھی۔ مگر سوشل میڈیا پر اس کی فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف لگائی گئی پوسٹوں کی وجہ سے تعلیم چھوڑنا پڑ گئی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیرٹ نے اس فلسطینی طالبہ کےسوشل میڈیا پر کمنٹس کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ فرانس یورپی دنیا میں سب سے زیادہ لبرل اور آزادی پسندی کاحامی اور چارلی ایبڈو نامی جریدے والا ملک ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق فلسطینی طالبہ نور عطااللہ اپنے ان کمنٹس کی وجہ سے فرانس کی سرزمین پر نہیں رہ سکتی تھی۔

اس لیے اتوار کے روز اسے فرانس سے جانا پڑا ہے اوراب وہ قطر جا کر اپنی تعلیم مکمل کرتی رہے گی۔ یاد رہے فرانس فلسطینیوں کے بارے میں بظاہر آج کل نرم رویہ رکھتا ہے اور اسرائیلی اتحادی ہونے کے باوجود فلسطینی ریاست کو اگلے ماہ تسلیم کرنے بھی جارہا ہے۔

غزہ کی رہائشی فلسطینی لڑکی محض چند ہفتے قبل گیارہ جولائی کو فرانس میں حصول تعلیم کے لیے پہنچی تھی۔ جسے فرانس چھوڑنا پڑا ہے۔اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ فرانس کے اداروں نے اس کے فرانس پہنچنے سے پہلے ہی اس کی سوشل میڈیا پر پچھلے دوسال کی پوسٹوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

اس فلسطینی طالبہ کی وہ پوسٹس بھی انکوائری کا باعث ہیں جو اس نے ڈیلیٹ کر دی تھیں۔ فرانسیسی حکام اس امر کو زیادہ سنگین سمجھتے ہیں کہ اس نے اپنی پوسٹس ڈیلیٹ کی ہیں۔

ادھر فرانسیسی وزیر خاجہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ فرانس غزہ سے پڑھائی کے لیے نکلنے والے تمام سٹوڈنٹس کے اجازت نامے معطل کر رہا ہے۔ نیز ان کے لیےتعلیمی پروگرام میں داخلے کو بھی موخر کر رہا ہے۔ تاکہ مزید تحقیقات کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں