ایران نے ایک بار پھر امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار ہے۔
ایرانی صدر کے معاون اول محمد رضا عارف نے ترکمانستان میں منعقدہ ترقی پذیر خشکی میں گھرے ممالک کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک نے اسرائیل کی ایران پر حملوں کی مذمت کے بجائے ان میں مدد کی۔
اعتماد کا فقدان
انہوں نے امریکہ پر براہ راست ایران کی پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور "صیہونی ریاست" کی پشت پناہی کا الزام بھی لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مذاکرات کی میز کو اس وقت تباہ کیا، جب دونوں ملکوں کے درمیان چھٹے دور کی جوہری بات چیت کی تیاریاں جاری تھیں، جس سے دنیا بھر میں امریکہ پر اعتماد مزید کمزور ہوا۔
محمد رضا عارف کے اس بیان سے چند روز قبل ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بھی واضح کیا تھا کہ تہران فی الحال امریکہ سے کسی بھی قسم کے بالواسطہ رابطے یا مذاکرات کی جلدی میں نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں پانچ مذاکراتی ادوار ہو چکے ہیں، تاہم گزشتہ جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد ان مذاکرات کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس جنگ میں امریکہ نے بھی حصہ لیتے ہوئے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
بات چیت میں اہم اختلافی نکتہ واشنگٹن کا یہ مطالبہ تھا کہ تہران مکمل طور پر مقامی سطح پر یورینیم کی افزودگی بند کر دے، جسے ایران نے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔