ایرانی میڈیا نے منگل کو اطلاع دی کہ ایران نے جلاوطن اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ تخریب کار سیل کے تین ارکان کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر امنِ عامہ میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کے الزام ہے۔
اسنا نیوز ایجنسی نے بتایا کہ مشتبہ افراد جن کا مبینہ طور پر سابق باغی گروپ پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران سے تعلق ہے، کو پاسدارانِ انقلاب نے تہران کے جنوب مشرق میں پاکدشت کاؤنٹی سے حراست میں لیا۔
پراسیکیوٹر محمد حسن پور نے اسنا کو بتایا، "ایم ای کے سے منسلک تخریب کار سیلز کے تین ارکان کی شناخت کر کے گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے امنِ عامہ اور سلامتی کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی تھی۔"
انہوں نے ایم ای کے پر الزام لگایا کہ وہ زیرِ زمین اور خفیہ پروپیگنڈا نیٹ ورک استعمال کر کے لوگوں کو "تخریب کاری سیل" بنانے کے لیے بھرتی کر رہا ہے جس کا مقصد امنِ عامہ کو درہم برہم کرنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز نے سیل کو ختم کر کے تمام ارکان کو گرفتار کر لیا۔
حسن پور نے کہا کہ مشتبہ افراد سے "خصوصی تفتیش" کی جا رہی ہے۔
گروپ کے دو مبینہ طویل مدتی ارکان کو گذشتہ ماہ کے آخر میں پھانسی دے دی گئی جس کے بعد آج کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
انہیں شہریوں، گھروں اور عوامی اداروں پر حملہ کرنے کے لیے دیسی ساختہ گولے اور بم تیار کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔
مغربی حمایت یافتہ شاہ کی مخالفت کے لیے قائم کردہ ایم ای کے کو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔
یہ گروپ اب بیرونِ ملک سے ایران کے نظام میں تبدیلی کی وکالت کرتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس گروپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ 13 جون کو اسرائیل کے حملے کے دوران نظامِ حکومت کو منہدم کرنے کے مقصد سے "بدامنی" کو ہوا دے رہا ہے۔