"امریکہ اور برطانیہ کی غزہ جنگ کی حکمت عملی مختلف مگر مقاصد یکساں ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ جنگ کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی حکمت عملی مختلف ہے مگر مقاصد یکساں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وانس نے جنوبی انگلستان میں برطانوی وزیر خارجہ لیمی ڈیوڈ سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔

اس سے قبل جے ڈی وانس غزہ کے بارے میں برطانیہ اور اس کی حکمران لیبر بارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ تاہم اب لندن پہنچنے کے بعد انہوں نے غزہ کے بارے میں امریکی و برطانوی مقاصد کے یکساں ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

امریکی نائب صدر وانس اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت لندن پہنچے ہیں۔ جہاں انہوں نے وزیر خارجہ برطانیہ کے زیر استعمال سرخ رنگ کی اینٹوں سے مزین ایک عظیم الشان رہائش گاہ میں قیام کیا ہے۔ وہ لندن میں مختصر قیام کے بعد شیوننگ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے رپورٹرز سے گفتگو سے پہلے لیمی ڈیوڈ نے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں نے ایک دوسرے کے لیے کافی دوستی اور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ لیمی ڈیوڈ نے جے ڈی وانس سے کہا وہ کینٹ سے جڑے ساحل کی سیر ضرور کریں اور لطف اٹھائیں۔ اس موقع پر امریکی نائب صدر نے برطانیہ کے لیے اپنی محبت کا بھی اظہار کیا۔

رپورٹر کی ملاقات کے دوران نائب صدر سے برطانیہ کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لینے کے اعلان بارے سوال پر کہا ہو سکتا ہے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان حکمت عملی یا راستے کا فرق ہو مگر ہمارے اہداف اور مقاصد یکساں ہیں۔

تاہم امریکی نائب صدر نے امریکی موقف کو ایک بار پھر دہرایا اور کہا ہمارا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب کیا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ نے اسرائیل کے خلاف مقابلتاً سخت موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ غزہ کی جنگ اور انسانی بحران پر اسرائیلی رہنما نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

اس سے پہلے جمعہ کے روز جے ڈی وانس اور لیمی بھی شیوننگ ہاؤس کے پیچھے جھیل میں مچھلیاں پکڑنے گئے تھے۔ وہ اپنے نیلے بٹنوں والی ڈاؤن شرٹس میں پر سکون اور ہنستے مسکراتے باتیں کر رہے تھے۔

وانس نے صحافیوں کو مذاق میں کہا کہ برطانیہ اور امریکہ کے درمیان خصوصی تعلقات پر ایک تناؤ یہ تھا کہ ان کے بچوں نے تو مچھلیاں پکڑی ہیں مگر برطانوی وزیر خارجہ نے ایسا نہیں کیا ہے۔

لیمی ڈیوڈ نے سوشل میڈیا ' ایکس ' پر لکھا 'ہمارے درمیان دوطرفہ بات چیت سے پہلے وانس نے کینٹکی میں مچھلیاں پکڑ کے طریقے کے بارے میں آگاہ کیا۔'

لیمی ڈیوڈ کے ساتھ شیوننگ میں دو راتوں کے قیام کے بعد انگلستان کی دیہی شناخت مزاج کی جگہوں کی سیر کے لیے جائیں گے۔ یہ برطانوی علاقے طبقہ امرا کے لیے لمبے قیام اور فٹبال کھیلنے کے لیے پرسکون جگہیں ہیں۔ یہاں فلمی دنیا کے بڑے نام اور لیڈر عام طور پر وزٹ کرتے ہیں۔

جے ڈی وانس اور لیمی ڈیوڈ کے درمیان غیر رسمی ملاقاتوں کا یہ اہتمام بحر اوقیانوس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دونوں ملکوں کی اندرونی سیاسی تبدیلیوں اور ٹرمپ انتظامیہ میں جے ڈی وانس کے ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھر کر خارجہ پالیسی بارے خیالات کے ماحول میں کیا گیا ہے۔

منصوبہ بندی سے متعلق ایک ذریعے نے کہا ہے دورے کو ایک ورکنگ وزٹ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں سرکاری مصروفیات، ملاقاتیں اور ثقافتی و سیاحتی سرگرمیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں ۔

نائب صدر وانس کی امریکی فوجیوں سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ ان کے شیوننگ ہاؤس میں قیام کے دوران کے قریب کچھ مظاہرین کا ایک گروپ جمع ہوگیا۔ یہ مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور غزہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں