برطانوی فلسطینی احتجاجی نے پولیس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی
ان پر ممنوعہ گروپ فلسطین ایکشن کی حمایت کا الزام لگایا گیا
برطانیہ میں ایک فلسطینی حامی مظاہریں جنہیں دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی تھی، اس واقعے میں ملوث پولیس فورس کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں، دی گارڈین نے جمعہ کو اطلاع دی۔
بیالیس سالہ لورا مرٹن نے گذشتہ ماہ کینٹربری شہر میں اپنے مظاہرے میں فلسطینی پرچم اور نشانات اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "آزاد غزہ" اور "اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے"۔
احتجاج کو روکنے والی مسلح پولیس نے مرٹن کو بتایا کہ انہوں نے فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کا اظہار کیا جس پر جولائی میں پابندی عائد کر دی گئی اور اسے دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کیا گیا تھا۔
مرٹن کے نشانات میں سے کسی پر بھی فلسطین ایکشن کا ذکر نہیں تھا، انہوں نے افسران کو بتایا جنہوں نے پوچھا تھا کہ کیا وہ کسی کالعدم تنظیم کی حمایت کرتی ہیں۔ "میں نہیں کرتی،" انہوں نے جواب دیا۔
مرٹن کے وکلاء نے کینٹ پولیس کے چیف کانسٹیبل کو دعویٰ کا ایک خط جاری کیا ہے جو برطانیہ کے طول و عرض میں اس ہفتے کے آخر میں فلسطینی حامی مظاہروں سے قبل پولیس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی سمجھا جاتا ہے۔
مرٹن اس واقعے پر ہرجانے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں ملنے والا کوئی بھی معاوضہ فلسطینی مقصد کے لیے عطیہ کریں گی۔
انہوں نے پولیس کی طرف سے معافی اور ان تفصیلات کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی ہے جو افسران نے اس واقعے کے بارے میں ریکارڈ کیں۔
قانونی فرم بھٹ مرفی سے تعلق رکھنے والے اور مرٹن کے نمائندہ شمیک دتہ نے کہا: "قانونی چیلنج لایا جا رہا ہے کیونکہ معاملات کے مطابق ہماری مؤکل کو نہ معافی اور نہ ہی اس بات کا کوئی اعتراف ملا ہے کہ کینٹ پولیس کا طرزِ عمل غیر قانونی تھا۔
نیز کہا، "انہیں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ 14 جولائی کے احتجاج کے سلسلے میں یا اگر وہ مستقبل میں ایسے ہی کسی احتجاج میں شامل ہونا چاہیں تو ان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔"
مرٹن نے اپنا پولیس سے سامنا فلمبند کیا۔ ایک افسر نے انہیں بتایا: "غزہ کی آزادی، اسرائیل اور نسل کشی کا ذکر کرنا، یہ سب ممنوعہ گروہوں کے زمرے میں آتے ہیں جو دہشت گرد ہیں اور ان کے خلاف حکومت نے حکم جاری کیا ہے۔" اس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ "آزاد غزہ" کا جملہ فلسطین ایکشن کی حمایت کا اشارہ دیتا ہے۔
مرٹن نے پس وپیش کرتے ہوئے افسران کو اپنا نام اور پتا فراہم کیا جنہوں نے دھمکی دی تھی کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔