مصر : غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے امریکہ و قطر کے ساتھ کام کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کی طرف سے ایک بار پھر اطلاع دی گئی ہے کہ وہ امریکہ و قطر کے ساتھ مل کر غزہ میں ساٹھ دنوں کے لیے جنگ بندی کرانے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ یہ بات مصر کی طرف سے منگل کے روز بتائی گئی ہے۔

یہ نئی کوشش جنگی فریقین پر دباؤ بڑھانے کی ایک نئی کوشش کے طور پر ہے تاکہ انہیں جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کیا کا سکے۔
مصری وزیر خارجہ نے جنگ بندی کی ان نئی کوششوں کا ذکر قاہرہ میں کی گئی پریس کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

',اے ایف پی' کو دو فلسطینی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حماس کا ایک سینئر وفد بدھ کو مصری حکام سے بات چیت کے لیے ملاقات کرنے والا تھا۔ تاکہ اس 22 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو اور غزہ میں قید اسرائیلی قیدی بھی غذائی قلت کا شکار ہو کر مرنے سے بچ جائیں۔

یاد رہے جولائی میں مذاکرات کامیابی کے قریب تھے مگر امریکہ اور اسرائیل نے اپنی مذاکراتی ٹیموں کو ہنگامی طور پر دوحہ سے واپس بلا لیا تھا۔ جس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے اور اسرائیل نے غزہ کے لیے نئے جنگی منصوبے کا اعلان کر دیا۔

وزیر خارجہ مصر بدر عبدالطی نے کہا ہے امریکہ اور قطر کے تعاون سے مصر پوری کوشش کر رہا ہے کہ ساٹھ دنوں کے لیے جنگ بندی ہو جائے اور دونوں طرف کے قیدی رہا ہو سکیں۔ نیز غذائی ضروریات کے لیے غزہ میں امداد کی ترسیل بلا روک ٹوک ممکن ہو سکے۔

حماس کے ایک زریعے نے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ اب ثالث ملک ایک نئی تجویز کے ساتھ آئے ہیں تاکہ ایک ہی قسط میں تمام اسرائیلی قیدی رہا ہو سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ مذاکراتی نشست میں شرکت کے لیے حماس کے مذاکراتی سربراہ خلیل الحیہ کے زیر قیادت وفد مصری حکام سے ملنے گیا تھا۔

ادھر غزہ سے شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے بمباری کا سلسلہ زیادہ تیز کر دیا ہے۔

ادھر نیتن یاہو نے اپنے جنگی منصوبے کے تحت غزہ میں کارروائیاں بڑھانے کا ابھی کوئی واضح شیڈول نہیں دیا ۔البتہ شہری دفاع کے غزہ ترجمان محمود باسل نے کہا ہے اس واضح ڈیڈ لائن کے بغیر ہی اسرائیلی ریاست بمباری میں بہت شدت اور تیزی لا چکی ہے۔

باسل کے مطابق بمباری کے تازہ اسرائیلی اہداف زیتون کے قرب میں صبرا میں تھے۔ جہاں بھاری بمباری کی گئی۔ یہ بمباری تیسرے مسلسل روز جاری رکھی گئی ہے۔ جس میں ڈرون طیاروں کے ساتھ ساتھ بھاری بم بھی گرائے گئے ہیں۔ نتیجتا منگل کے روز کم از کم 33 فلسطینی مزید قتل کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی ریاست بین الاقوامی برادی اور عالمی اداروں کی تنقید کی پرواہ کیے بغیر غزہ میں تباہی بڑھانے کے اہداف مکمل کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں