حسینہ واجد کی بھانجی بھی کرپشن میں ملوث،بدعنوانی کے الزامات کے بعد برطانوی وزارت سے مستعفی
بنگلہ دیشی حکام نے کرپشن کے مقدمے میں سابق برطانوی وزیر اور حسینہ کی رشتہ دار ٹیولپ صدیق کے خلاف عدالت میں گواہی دے دی ہے۔ ان کے خلاف یہ گواہی بدھ کے روز دی گئی ہے۔
خیال رہے ٹیولپ صدیق حسینہ واجد کی بھانجی ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے حسینہ واجد سے خاندانی تعلق ہونے کا استعمال کیا ہے۔
ٹیولپ نے اپنے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دے دیا جب انہیں اس الزام کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ لندن میں اپنی خالہ کے گھر میں رہتی ہیں۔ نیز حسینہ واجد کے خلاف بنگلہ دیش میں جاری مقدمات میں ان کا نام بھی زیر بحث آیا ہے۔
ٹیولپ پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری اراضی کی وصولی میں سہولت کاری کا کام کیا تھا۔ ان پر یہ مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا جا رہا ہے۔ ان کے وکلاء نے اں الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
پراسیکیوٹر محمد طارق الاسلام نے ٹیولپ کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی شہری نہیں ہیں کہ تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی شہری ہیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ٹیولپ کو ان مقدمات میں 3 سے 10 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔
برطانوی اخبار 'دی گارڈین' کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ٹیولپ نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
محکمہ انسداد بد عنوانی کے مطابق 2013 میں روس کے ساتھ بنگلہ دیش میں ایک نیوکلئیر پاور پلانٹ معاہدے میں ٹیولپ صدیق کا خاندان بد عنوانی اور کرپشن میں ملوث رہا ہے۔