حزب اللہ کے ہتھیار واپس لینے کا کوئی جواز نہیں: ایرانی لیڈر علی لاری جانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی لبنان آمد کا مقصد ایک سفارتی پیغام دینا ہے۔ ایک ایسا پیغام جو قومی سلامتی کے اصولوں پر مبنی تھی۔

ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ لاریجانی نے لبنان کے کئی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کی اور ان کا واضح پیغام یہ تھا کہ "حزب اللہ ایران کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور اس کے ہتھیار واپس لینا ممکن نہیں"۔

ہم یہاں ہیں

مزید بتایا گیا کہ ایرانی عہدیدار نے حزب اللہ کے لیے کوئی خفیہ ہدایت نہیں لائی، بلکہ ان کے پیغام کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہتھیار واپس لینے والے سمجھ لیں کہ "ہم یہاں موجود ہیں"۔

ذرائع کے مطابق یہ پیغام "متعلقہ فریقین" کو بھیجا گیا اور اس کا مفہوم واضح تھا کہ "جنگ یا بات چیت ہمارے ساتھ" ہوگی۔

ہتھیار صرف حکومت کے پاس

لبنان کے صدر جوزف عون نے علی لاریجانی سے ملاقات کے دوران کہاکہ "کسی بھی فریق کے لیے بغیر کسی استثناء کے ہتھیار رکھنا اور بیرون ملک سے طاقت حاصل کرنا ممنوع ہے"۔

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے ملاقات کے بعد کہا کہ "کچھ ایرانی عہدیداروں کے حالیہ بیانات نہ صرف غیر مناسب ہیں بلکہ لبنان کی آئینی حکومت کی طرف سے کیے گئے فیصلوں پر براہِ راست تنقید بھی ہیں۔ یہ موقف سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی اور باہمی خودمختاری کے احترام کے اصول کی کھلی توہین ہے"۔

یاد رہے کہ لبنان کی حکومت نے گذشتہ ہفتے ہتھیار صرف ریاست کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا اور فوج کو ہدایت دی کہ وہ اس منصوبے کو اس مہینے کے آخر تک تیار کرے، تاکہ ہتھیار کی واپسی سال کے آخر تک مکمل ہو جائے۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب امریکہ نے اپنے نمائندے تھامس براک کے ذریعے حزب اللہ کے ہتھیار واپس لینے کے لیے تفصیلی منصوبہ پیش کیا، جسے حزب اللہ نے گذشتہ سال اسرائیل کے ساتھ تباہ کن جنگ کے بعد سے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں