اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے "رضاکارانہ ہجرت" کے بارے میں بات چیت کو دہرایا ہے۔ نیتن یاہو نے بدھ کی شب اسرائیلی چینل "i24" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "غزہ کے باشندے آہستہ آہستہ باہر جا رہے ہیں اور میں ان ممالک کے نام نہیں بتا سکتا جو ان کی میزبانی کر رہے ہیں"۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ "جو ممالک غزہ کے باشندوں کے بارے میں فکر مند ہیں، انھیں چاہیے کہ اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیں"۔
انڈونیشیا اور صومالی لینڈ
اسرائیلی ذرائع کے مطابق آج جمعرات کو یہ معلومات حاصل ہوئیں ہیں کہ "غزہ کے باشندوں کو بسانے کے لیے انڈونیشیا اور صومالی لینڈ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے"۔ یہ بات سرائیلی چینل 12 نے بتائی۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسرائیل پانچ ممالک یعنی انڈونیشیا، صومالی لینڈ، یوگنڈا، جنوبی سوڈان اور لیبیا کے ساتھ اس امکان پر بات کر رہا ہے کہ وہ غزہ کے باشندوں کو قبول کریں اور انھیں وہاں بسائیں۔ واضح رہے کہ جنوبی سوڈان اور لیبیا اس معاملے کی پہلے ہی تردید کر چکے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق "کچھ ممالک اب اس مسئلے پر پہلے سے زیادہ آمادہ ہیں کہ وہ ان فلسطینیوں کو قبول کریں جو غزہ چھوڑ رہے ہیں یا چھوڑنے پر آمادہ ہیں"۔
ذرائع نے خاص طور پر "انڈونیشیا اور صومالی لینڈ" کا ذکر کیا لیکن یہ بھی واضح کیا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ یا معاہدہ طے نہیں پایا۔
نیتن یاہو اور ان کے حکومتی اتحاد کے دیگر وزرا پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ سے "رضاکارانہ ہجرت" کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پہلے اشارہ دے چکے ہیں کہ غزہ کے باشندوں کو دیگر ممالک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ان تجاویز کو عرب دنیا نے مکمل طور پر مسترد کر دیا اور اسرائیل کی جانب سے "منظم جبری ہجرت کی منصوبہ بندی" پر سخت تنقید کی۔
عرب ممالک متعدد بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک تمام فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنی زمین پر "واپسی کا حق" حاصل ہے۔