روس کونسے علاقے چاہتا ہے؟ پوتین الاسکا میں ایک فائل لے کر جا رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پر امید ماحول میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الاسکا میں ایک فوجی اڈے پر اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے ملنے پہنچ رہے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ لاوروف نے تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک کا موقف واضح ہے اور وہ الاسکا سمٹ کے دوران پیش کیا جائے گا۔ دریں اثنا اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں سوالات بڑھ گئے ہیں۔ کیا دونوں رہنما روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو روکنے کے لیے کسی حل پر پہنچیں گے یا یہ ملاقات مایوس کن نتائج پر ختم ہوگی؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ پوتین اپنے ساتھ ایک فائل لے کر الاسکا جا رہے ہیں جس میں ان کے ملک کے تمام مطالبات اور شاید وہ نقشے بھی شامل ہیں جو روسی افواج کے زیر کنٹرول یوکرینی علاقوں کو دکھاتے ہیں جنہیں ماسکو "اپنا حق" سمجھتا ہے۔ خاص طور پر جب ٹرمپ نے پہلے ہی دونوں فریقوں کے درمیان زمین کے تبادلے یا یوکرین کی طرف سے کچھ رعایتوں کا اشارہ دیا تھا۔

کونسے علاقوں کی بات کی جارہی ؟

گزشتہ ہفتے ذرائع نے بتایا کہ روسی فریق نے امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کو ماسکو کے دورے کے دوران ایک تجویز پیش کی تھی کہ یوکرین جنگ بندی کے بدلے مشرقی ڈونیٹسک اور لوہانسک کے باقی حصوں سے دستبردار ہو جائے جنہیں ایک ساتھ ڈونباس کہا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں ڈونیٹسک کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ روسی افواج نے دوبروپیلا کے شمال مشرق میں اہم پیش قدمی کی ہے جس سے اس علاقے کا کنٹرول تبدیل ہو گیا ہے جس پر وٹکوف نے کریملن کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ اس لیے روس سومی اور خارکیف کے قریب سرحدی علاقوں کے کچھ حصوں کو بڑے علاقوں کے بدلے میں پیش کر سکتا ہے۔ لیکن یہ امکان نہیں ہے کہ یوکرین اسے قبول کرے گا۔

دونباس

زاپوریجیا اور خیرسون

جہاں تک زاپوریجیا اور خیرسون کے علاقوں کا تعلق ہے ایسا نہیں لگتا کہ پوتین نے ان پر اپنا دعویٰ واپس لیا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ سال ہونے والے ریفرنڈم کے بعد انہیں سرکاری طور پر روس میں شامل کرنے کے اعلان کے بعد اس پر دعویٰ واپس لینے کا امکان کم ہوگیا ہے۔ ماسکو ڈونیٹسک کے زیادہ تر حصے اور تقریباً پورے لوہانسک کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن یہ صرف خیرسون اور زاپوریجیا کے تقریباً دو تہائی حصے پر قابض ہے۔ دوسری طرف جزیرہ نما کریمیا، جسے روس نے 2014 میں ضم کیا تھا، ایسا نہیں لگتا کہ وہ روسی سودے بازی کا حصہ ہوگا۔

یوکرین کے صدر کی جانب سے اس سے دستبردار ہونے کے امکان کے بارے میں زیادہ قبولیت دکھائی گئی جب انہوں نے پہلے ہی اشارہ کیا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کچھ رعایتیں دینی پڑیں گی۔ اس پیچیدہ منظر نامے کے پیش نظر کچھ مبصرین متفق ہیں کہ آج کی ملاقات کا بہترین نتیجہ جنگ بندی اور محاذوں کو موجودہ حالت میں منجمد کرنے کا اعلان یا اتفاق ہو سکتا ہے تاکہ بعد میں امن مذاکرات اور زمین کے تبادلے کی تفصیلات پر غور کیا جا سکے۔ یہ یورپی اور یوکرینی مطالبہ بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں