یونان : اسرائیلی سیاحوں کے بحری جہاز کے سامنے انسانی حقوق کے کارکنوں کا احتجاج

یونانی حکومت پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاج کر کے اسرائیلی ریاست کے جبر کو ہدف بنانے والے احتجاجی کارہن یونان کی دائیں بازو کی حکومت کے لیے درد سر بن رہے ہیں۔ یونان کی دائیں بازو کی حکومت نے غزہ کی جنگ کے دوران مسلسل مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو اس طرح نبھایا ہے کہ جیسے تنے ہوئے رسے پر چلنا ہو۔

جمعرات کے روز ایتھینز کے باہر منہ اندھیرے پولیس نے ان احتجاجیوں کو احتجاج سے باز رکھنے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تاکہ سینکڑوں احتجاجیوں کو لے کر آنے والے بحری جہاز کو روک سکے۔

ان پولیس والوں کا رخ اسی 'کراؤن آئرس' کی طرف تھا۔ جس پر انہیں غصہ ہے جو احتجاجی کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے یونان میں امن و امان کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں ۔

سیاحت یونانی معیشت میں ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن فلسطین کے حامی انسانی حقوق کے کارکن غزہ میں جاری اسرائیلی ریاست کی جنگ کو مکمل ختم کرنا چاہتے ہیں جس میں اب تک اکسٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

کارکنوں کے عسکری محاذ جو کہ کمیونسٹ یونین سے وابستہ ہے اس احتجاجی ریلی کی اپیل کی تھی۔ جو 'کراؤن آئرس' کے سامنے جمع تھے۔

احتجاج کرنے والے کارکنوں میں سے ایک جارج مائیکلائڈز نے 'اے ایف پی' کہا ہم ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں کسی بھی طرح حصہ ڈال رہے ہوں۔

اس 43 سالہ ٹیچر کا کہنا تھا کہ ہم ہر شہری کو اور ہر جگہ تحفظ دینے کے حامی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان سیاحوں کو ہی تحفظ دیا جائے جو ہمارے لیے بزنس لے کر آتے ہیں۔

48 سالہ طبی کارکن کیٹیرینا پیٹرکیو جو احتجاج کرنے والوں میں شامل تھی نے کہا یہ اسرائیلی ریاست سے آنے لوگ سیاح نہیں ہیں، یہ قاتل ہیں جنہوں نے فلسطینی بچوں اور شہریوں کا غزہ میں قتل عام کیا ہے۔

ماضی میں یونانی حکومتیں عام طور پر عرب دنیا کی حمایت پر مبنی پالیسی لے کر چلتی رہی ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران ملک کے توانائی و سلامتی سے متعلق مسائل کی وجہ سے اسرائیل کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے۔

ایتھینز کی کوشش ہے کہ وہ اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان تعلقات میں توازن رکھے اور دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔ تاہم اسے بائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں سے شکوہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔

یونان کے وزیر صحت ایڈونیس جارجیاڈیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا کہ ترکیہ کے اثرات ہماری بندرگاہوں تک پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اسرائیل کے سامنے انتہائی نقصان کا سامنا ہو رہا ہے۔ اس لیے ہمیں لازماً متحد رہنا ہے اور ان احمق لوگوں کو ناکام کرنا ہے جو یہود دشمنی پر مبنی اقدامات کر رہے ہیں۔

یاد رہے رجعت پسند جماعت میں شامل ہونے سے پہلے ایڈونیس دائیں بازو کے ایک نمایاں لیڈر تھے جو یہود مخالفت کی ایک لمبی تاریخ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں