آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ تہران کی آسٹریلیا میں سامی مخالف دو حملوں میں ملوث ہونا بتائی گئی ہے۔
انتھونی البانیز نے آج منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی حکومت نے "براہِ راست کم از کم دو سامی مخالف حملے آسٹریلیا میں کروائے"۔ انھوں نے اس عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آسٹریلیا کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
البانیز نے مزید بتایا کہ تہران میں آسٹریلوی سفارت خانے میں کام معطل کر دیا گیا ہے اور تمام آسٹریلوی سفارت کار اب کسی تیسرے ملک میں محفوظ ہیں۔
وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ آسٹریلیا ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنے کا عمل شروع کرے گا۔ اس سے کینبرا اور تہران کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ جائے گی۔ البانیز نے بتایا کہ آسٹریلوی خفیہ اداروں نے سڈنی کے ایک ریستوران اور میلبرن کی ایک مسجد پر ہونے والے حملوں کو ایران کے ساتھ جوڑا ہے۔
اکتوبر 2023 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد مذکورہ دونوں شہروں میں سامی مخالف حملوں میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔
انتھونی البانیز نے صحافیوں کو بتایا "آسٹریلوی سیکیورٹی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس اتنی مستند معلومات موجود ہیں کہ ایک تشویش ناک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکومت نے کم از کم دو حملے کیے ہیں۔ ایران نے اپنے ملوث ہونے کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن ایجنسی کے جائزے کے مطابق وہ ان حملوں کے پیچھے تھا۔"
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آسٹریلیا نے ایرانی سفیر اور تین دیگر ایرانی حکام کو سات دن میں ملک چھوڑنے کی مہلت دی ہے، اور یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سفیر نکالنے کی آسٹریلیا کی پہلی کارروائی ہے۔
اسی طرح آسٹریلیا نے ایران میں اپنا سفیر واپس بلایا اور تہران میں سفارت خانے کا کام معطل کر دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا "ہم نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ ایران کے اقدامات بالکل ناقابل قبول ہیں۔"
آسٹریلوی سیکیورٹی انٹیلی جنس نے واضح کیا کہ ایرانی حکومت سڈنی میں یہودی کھانے کی کمپنی "لوئس کونٹینینٹل کچن" پر اکتوبر میں اور میلبرن کے کنّیس "آداس اسرائیل" پر دسمبر میں ہونے والے حملوں کی پشت پر تھی۔
اس اعلان سے قبل آسٹریلوی حکومت نے ایرانی سفیر احمد صادقی کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا اور ایران میں کام کرنے والے آسٹریلوی سفارت کاروں کو تیسرے ملک منتقل کرنے کا حکم دیا۔ انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلیا ایران میں اپنے شہریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے سفارتی رابطے قائم رکھے گا۔
یاد رہے کہ تہران میں آسٹریلوی سفارت خانہ 1968 سے موجود ہے۔