ایلون مسک اپنے انجینئر پر برہم ... "Grok" کے راز چرا کر حریف کو دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی ملکیت والی اسٹارٹ اپ کمپنی "xAI" نے جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرتی ہے، کمپنی کے سابق انجینئر کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ سابق ملازم پر الزام ہے کہ اس نے چیٹ بوٹ "Grok" سے متعلق تجارتی راز چرائے اور انھیں اپنی حریف کمپنی "OpenAI" کو منتقل کیا۔

مسک کی کمپنی نے یہ مقدمہ دو دن قبل کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں دائر کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ انجیئنر شوچن لی نے وہ خفیہ معلومات چرائی جو "ایسی جدید AI ٹیکنالوجیز سے متعلق ہیں جن کی خصوصیات ChatGPT سے بہتر ہیں"، تاکہ انھیں اپنے نئے عہدے پر OpenAI میں استعمال کر سکے، جس کا تقرر اس مہینے کے شروع میں ہوا۔

مقدمے میں مزید کہا گیا کہ لی نے پچھلے سال xAI میں انجینئر کے طور پر کام شروع کیا اور Grok کی تربیت اور ترقی میں مدد دی۔ تاہم جولائی میںOpenAI میں ملازمت قبول کرنے اور xAI کے شیئرز 70 لاکھ ڈالر میں فروخت کرنے کے بعد، اس نے تجارتی راز حاصل کر لیے۔

کمپنی نے کہا کہ یہ راز OpenAI کو ChatGPT میں xAI کی خصوصیات شامل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، جو "سب سے جدید اور تخلیقی مصنوعی ذہانت" ہے۔

مزید برآں، مقدمے میں کہا گیا کہ لی نے 14 اگست کو ہونے والے اجلاس میں کمپنی کی فائلیں چرانے اور "اپنے آثار چھپانے" کا اعتراف کیا، اور بعد میں کمپنی کو اس کے آلات پر چرایا گیا اضافی مواد بھی ملا جو اس نے ظاہر نہیں کیا۔ مسک کی کمپنی نے عدالت سے غیر معینہ مالی ہرجانہ اور ایک پابندی کا حکم مانگا ہے جو لی کو OpenAI میں جانے سے روکے۔ یہ بات روئٹرز ایجنسی نے بتائی۔

دوسری طرف لی یا اس کے وکیلوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور OpenAI نے بھی کوئی بیان دینے سے گریز کیا۔

صلاحیت کے لیے مقابلہ


یہ مقدمہ اس تنازع کو اجاگر کرتا ہے جو مسک کی کمپنی اور OpenAI کے درمیان جاری ہے، اور عام طور پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کے ماہرین کے حصول کی شدید جنگ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

ایلون مسک، جو OpenAI کے بانیوں میں شامل ہیں، انھوں نے پہلے بھی کمپنی اور اس کے سی ای او سام آلٹمین کے خلاف علیحدہ مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ کمپنی اپنے اصل مقصد یعنی انسانیت کی بھلائی کے مشن سے ہٹ گئی ہے۔

جبکہ اپریل میں OpenAI نے مسک کے خلاف جوابی مقدمہ دائر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں