بھارت روسی درآمدات سے 'منافع خوری' نہیں کر رہا: بھارتی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کے وزیر برائے تیل ہردیپ سنگھ پوری نے پیر کے روز دی ہندو اخبار میں کہا کہ بھارت روسی تیل کی درآمدات سے "منافع خوری" نہیں کر رہا اور اس کی خریداریوں نے منڈی کو مستحکم کرتے ہوئے قیمتوں کو 200 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے سے روکا ہوا ہے۔

امریکی سکریٹری خرانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ کم قیمتوں پر روسی تیل درآمد کر کے اور پھر صاف شدہ ایندھن زیادہ قیمت پر دوبارہ فروخت کر کے منافع خوری کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے کہا کہ بھارتی خریداری یوکرین میں ماسکو کی جنگ کے لیے مالی اعانت فراہم کر رہی ہے۔

"کچھ ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ بھارت روسی تیل کے لیے گویا ایک 'دھوبی گھاٹ' بن گیا ہے۔ سچائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو سکتا،" پوری نے ایک اداریئے میں لکھا۔

پوری کے تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب وزیرِ اعظم نریندر مودی ایک علاقائی سربراہی اجلاس کے سلسلے میں چین میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کر رہے ہیں۔

بھارت روسی سمندری تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کی جانب سے خریداری ترک کر دینے اور فروری 2022 میں یوکرین حملے کے باعث ماسکو پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد روس کو نئے خریداروں کی تلاش تھی تو بھارت نے تیل پر ملنے والی رعایت کا فائدہ اٹھایا ہے۔

"روسی تیل کو کبھی بھی ایرانی یا وینزویلا کے خام تیل کی طرح منظور نہیں کیا گیا ہے؛ یہ جی سیون/یورپی یونین کے قیمت کی حد کے نظام کے ماتحت ہے جو محصولات کو محدود کرتے ہوئے تیل کی روانی برقرار رکھنے کے لیے دانستہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔" پوری نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ تیل کا ہر لین دین "قانونی نقل و حمل اور انشورنس، قوانین کی پاسداری کرنے والے تاجروں اور آڈٹ شدہ چینلز" کا استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

"بھارت نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ اس نے منڈیوں کو مستحکم کیا اور عالمی قیمتوں کو بڑھنے سے روکا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "بڑا سچ یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے بڑے پیدا کنندہ کا کوئی متبادل نہیں جو عالمی تیل کا تقریباً 10 فیصد فراہم کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں