سعودی دارالحکومت ریاض جو ساحلی علاقہ نہیں ہے اور اس کا موسم بھی صحرائی ہے، اس کے باوجود یہ شہر ملک میں "فش فارمنگ " کے سب سے زیادہ منصوبے رکھتا ہے۔ ریاض کے بعد مشرقی علاقہ دوسرے اور قصیم تیسرے نمبر پر ہے ۔ مکہ مکرمہ چوتھے نمبر پر ہے۔ یہاں صوبے مغربی لیث میں آبی زراعت کا سب سے بڑا منصوبہ موجود ہے۔
سعودی عرب نے تقریباً 35 سال قبل یعنی 1980 کی دہائی کے اوائل میں "آبی زراعت" سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا جب اس وقت کی وزارتِ زراعت و پانی نے ملک میں بین الاقوامی اداروں کی سفارشات پر یہ شعبہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفارشات سعودی حکومت کو ملک میں مچھلیوں کے ذخائر کی صورتحال کے مطالعہ کے بعد پیش کی گئی تھیں۔
افزائش اور برآمدات
آبی زراعت کا مطلب ہے مچھلیوں کو اور مناسب ماحولیاتی حالات کے تحت کسی مخصوص جگہ یا کھلے پانی یا تالابوں میں پالنا اور ان کی افزائش کرنا ۔ سمندر کے باہر مچھلیوں کی افزائش کے بعد انہیں سعودی مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے اور بیرونِ ملک برآمد بھی کیا جاتا ہے۔
چین سب سے بڑا خریدار
چینی مارکیٹ سعودی آبی فارمز کی مصنوعات کی سب سے بڑی خریدار ہے جس کے بعد خلیجی ممالک، جاپان اور روس آتے ہیں۔ سعودی آبی فارمز سے تیار شدہ مچھلیاں دنیا کے 32 سے زیادہ ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ یہ بات آبی زراعت ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ماجد العسکر نے بتائی۔ ان کے مطابق اب تک آبی زراعت کے 300 سے زیادہ منصوبوں کے لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔
قومی پیداوار میں حصہ
مچھلی کے ذخائر کا شعبہ قومی پیداوار میں 2.2 بلین سعودی ریال سے زیادہ کا حصہ ڈالتا ہے۔ آبی زراعت اس حصہ کا سب سے بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا حصہ ہے۔ آبی زراعت ایسوسی ایشن کے مطابق آبی زراعت کی پیداوار مچھلی پکڑنے کی پیداوار سے زیادہ ہے۔