بائیڈن کا سرطان زدہ خلیات نکالنے کے لیے آپریشن ہوا : میڈیا رپورٹیں
اس سے قبل بائیڈن نے اپنی صدارت کے دوران 2023 میں ایک معمول کے طبی معائنے کے دوران جلد کی ایک رسولی نکلوائی تھی
امریکی نشریاتی ادارے "این بی سی نیوز" نے جمعرات کو سابق صدر جو بائیڈن کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ بائیڈن کے جسم سے سرطان زدہ خلیات نکالنے کے لیے ان کا ایک آپریشن کیا گیا ہے ... اور اب وہ صحت یاب ہو رہے ہیں۔
یہ آپریشن عام طور پر جلد کے سب سے زیادہ پائے جانے والے سرطان کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے۔
اس سے قبل مئی میں 82 سالہ بائیڈن نے بتایا تھا کہ انھیں پروسٹیٹ کے سرطان کی تشخیص ہوئی ہے۔ سابق امریکی صدر کی ٹیم نے بیماری کو جارحانہ لیکن ہارمونی علاج کے لیے حساس قرار دیا، یعنی اس کے علاج کے امکانات زیادہ ہیں۔
اس سے قبل بائیڈن نے 2023 میں اپنی صدارت کے دوران ایک معمول کے طبی معائنے کے موقع پر جلد کی ایک رسولی نکلوانے کا عمل بھی کروایا تھا، جسے بعد میں خلیے کا سرطان قرار دیا گیا تھا۔
بائیڈن کی جسمانی اور ذہنی صحت ان کی صدارت کے دوران مسلسل زیرِ نگرانی اور زیر بحث رہی۔ انھوں نے جولائی 2024 میں اچانک دوبارہ انتخابی مہم ختم کر دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مباحثے میں انتہائی کمزور کارکردگی دکھا پائے۔ اس صورت حال نے ڈیموکریٹک پارٹی میں شدید خدشات کو جنم دیا۔
بائیڈن جب 2020 میں منتخب ہوئے تو وہ امریکی تاریخ کے سب سے عمر رسیدہ صدر تھے۔ تاہم ان کا ریکارڈ 2024 میں ٹرمپ نے توڑ دیا، جو اس وقت 79 برس کے ہیں۔
صدارت چھوڑنے کے بعد بائیڈن عوامی سطح پر کم ہی نمایاں ہوئے ہیں۔ تاہم انھوں نے ایک تقریر کی جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ کٹوتیوں کے خلاف سوشل سیکیورٹی کے دفاع میں اپنا مؤقف پیش کیا۔