دوحہ حملے کے چند روز بعد ... امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کا دورہ جاری

ٹرمپ نے قطر کو "نہایت شان دار اتحادی" قرار دیا .... اسرائیل کو محتاط رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اسرائیل کے دورے پر ہیں، جس کا مقصد تل ابیب کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اظہار ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسرائیل نے گزشتہ ہفتے قطر میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برہمی ظاہر کی تھی اور دوحہ سمیت کئی عالمی حلقوں کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

روبیو نے تل ابیب میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ نیتن یاہو نے اس موقع پر کہا کہ روبیو کا دورہ "امریکا۔اسرائیل اتحاد کی مضبوطی اور گہری دوستی" کا ثبوت ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان میں بھی کہا گیا کہ یہ دورہ اس مقصد سے ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہنے کا پیغام دیا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کئی مغربی ممالک اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی حملے پر محتاط رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ "قطر ایک بہترین اتحادی ہے، لہٰذا اسرائیل اور دیگر کو احتیاط برتنی چاہیے"۔ دوسری جانب روبیو نے روانگی سے قبل کہا کہ اگرچہ ٹرمپ اس کارروائی سے خوش نہیں، مگر یہ اختلاف امریکا اور اسرائیل کے تعلقات پر اثرانداز نہیں ہو گا۔

قطر جو اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اہم ثالث ہے، اس نے ان حملوں کو اشتعال انگیز قرار دیا۔ قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے عرب و اسلامی سربراہی اجلاس سے قبل کہا کہ "بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دینی چاہیے"۔ قطر مصر اور امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج شمالی غزہ میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ نے غزہ میں قحط کی با ضابطہ تصدیق کی تھی۔

ادھر اسپین اور اسرائیل کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز کو "اسپین کے لیے شرمندگی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانچیز نے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کی حوصلہ افزائی کی، جس کے باعث میڈرڈ میں سائیکل ریس کا آخری مرحلہ روکنا پڑا۔ اسپین نے اسرائیلی بیانات کے جواب میں اپنی سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔ واضح رہے کہ اسپین نے مئی 2024 میں با ضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کر لیا تھا۔

غزہ کی جنگ اب تک بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بنی ہے۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں میں 1219 افراد مارے گئے، جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جوابی کارروائیوں سے میں اب تک تقریباً 65 ہزار فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے پاس اب بھی 47 یرغمالی موجود ہیں، جن میں سے 25 مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں