سپین: انسانی حقوق کے تحفظ کے حامی عوام دوڑوں کے مقابلوں پر حاوی

دوڑوں کا فائنل مقابلہ منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سپین جس نے پچھلے سال سے زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی طور پر غزہ جنگ کے خلاف سخت موقف اپنا رکھا ہے۔ اتوار کے روز ایک بار پھر اس کے شہریوں کی فلسطینی شہریوں اور غزہ کے جنگ و قحط زدہ بے گھر لوگوں کے لیے احساس ہمدردی غالب نظر آیا۔ سپین کے عوام ویلٹا اے ایسپانا میں متوقع دوڑ مقابلوں کے فائنل سے پہلے ہی اپنا پر امن احتجاج کر رہے تھے ۔

وزیر اعظم سپین پیڈرو سانچیز نے بھی ایک روز قبل جہاں دوڑوں کے مقابلوں میں شرکت کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے مکمل احترام کا اظہار کیا تھا، وہیں اپنے شہریوں کی انسانی حقوق کے ساتھ گہری کمٹمنٹ کے اظہار پر فخر کیا تھا۔ کہ ان کے ہزاروں لوگوں نے غزہ کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔

تاہم اتوار کے روز دوڑوں کے متوقع طور پر دارالحکومت میڈرڈ میں ہونے والے فائنل مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

کیونکہ سپین کے عوام کی ترجیح میں غزہ کے فلسطینیوں کے حقوق غالب ہیں اور وہ ان کی بھوک اور بارود دونوں سے مسلسل ہلاکتوں کو روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز ہزاروں مظاہرین میڈرڈ میں بھی جمع ہو کر غزہ کے عوام کے حق میں مظاہرے کر رہے تھے۔ اس دوران مظاہرہن سڑکوں پر تمام رکاوٹیں عبور کرکے پہنچ گئے۔ ' اے ایف پی ' کے مطابق سائیکلسٹوں کے لیے مختص کی گئی سڑکوں ہر بھی ہجوم جمع ہو گیا۔ یہ ہجوم ' گران ویا پر' پر بھی موجود رہا۔ جہاں سے سائیکلسٹوں کو ریس کے دوران کئی بار گزرنا تھا۔ مظاہرین نے رکاوٹیں بھی توڑ دیں۔

پولیس نے اس ہجوم کو روکنے کے لیے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس فائر کیے مگر ہجوم آس پاس ہی موجود رہا۔

اس صورت حال میں دوڑوں میں حصہ لینے والے سائیکلسٹ ویلٹا سے روانہ ہونے سے ہی رک گئے۔ انہیں فائنل مقابلوں کے لیے 56 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے یہاں میڈرڈ میں پہنچنا تھا۔ مظاہرین کا غصہ زیادہ تر اسرائیلی پریمیئر ٹیک ٹیم کی شرکت کے خلاف تھا۔

مظاہرین کا موقف یہ تھا کہ ایک جانب غزہ میں بچے بھوک سے بلک بلک کر مر رہے ہیں اور دوسری جانب بے ضمیر بن کر ہم اپنے کھیل کود میں مگن نہیں رہ سکتے۔ ہم بے ضمیر قسم کے ملک کی شناخت قبول نہیں کر سکتے۔یاد رہے سپین نے مئی 2024 سے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ آئر لینڈ اور ناروے نے بھی فلسطینی ریاست کو اس کے ساتھ ہی تسلیم کر لیا ہے۔

سپین کی بائیں بازو کی حکومت کے کئی عہدے دار عوامی مقامات پر بھی مظاہرین کی فلسطینیوں کے حق میں اس تحریک کی حمایت کر چکے ہیں۔

سپین کی نائب وزیر اعظم یولینڈا ڈیاز نے اس سلسلے میں کہا ہے اسرائیل جب تک غزہ میں نسل کشی نہیں روکتا وہ کسی بھی صورت میں مقابلہ نہیں کر سکتا۔

خیال رہے اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں جنگ پر تنقید کرنے پر انہیں اسرائیل میں داخلے سے روکا گیا تھا۔

ڈیاز نے ' انسٹاگرام ' پر مزید کہا ہمارے سپین کے معاشرے نے دنیا کو سبق دیا ہے کہ وہ بھی انسانی حقوق کو ترجیح دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں