ایران پر امریکی پابندیوں کا نیا سلسلہ عائد
امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کا منگل کے روز ایک نئی کھیپ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان پابندوں کا نشانہ ایرانی شہری اور ایسے ادارے تھے جو ایرانی شناخت کے حامل تھے۔ یہ بات واشنگٹن کے محمکہ خزانہ نے بتائی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کی زد میں ایرانی فوج جن میں کچھ فوجی ہانگ کانگ میں موجود ہیں اور کچھ عرب امارات میں بھی موجود ہیں، انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں اس کے نتیجے میں فنڈز کی منتقلی، ایرانی تیل کی فروخت جس سے ایرانی فوج کو فائدہ ہوتا ہے یا پاسداران انقلاب اور قدس فورس کو فائدہ ہوتا ہے۔ ایرانی وزارت دفاع فائدہ اٹھاتی ہے یا اس کی مسلح افواج کو فائدہ ہوتا ہے ایسے تمام تیل کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ کے جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے شیلو بینکنگ نیٹ ورک، ماحولیاتی سہولت کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی سسٹم کو بدنام کرنے والے اداروں کو پابندیوں کی زد میں لیا گیا کہ یہ بیرون ملک قائم کمپنیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کر رہے تھے۔ اس منی لانڈرنگ میں کرپٹو کرنسی بھی شامل تھی۔ اس لیے امریکی محکمہ خزانہ نے پابندی لگا دی ہے۔
امریکہ عام طور پر ایسے اداروں اور کمپنیوں پر پابندیاں لگاتا ہے جو رقوم کی منتقلی اور تجارت میں منسلک ہوتے ہیں