سعودی عرب اور فرانس کا متفقہ طور پر’اعلان نیویارک‘ پر فوری عملدرآمد پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ریاض میں منعقدہ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے کے نفاذ سے متعلق اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس کے اختتام پر سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ بیان میں دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اعلان نیویارک کو عملی اور ناقابل واپسی اقدامات کے ذریعے جلد نافذ کریں۔ بیان میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور عہد کا خیرمقدم کیا گیا۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے"اگلا دن"

بیان میں کہا گیا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک عارضی بین الاقوامی مشن کی تعیناتی کی حمایت کی گئی جو فلسطینی اتھارٹی کی درخواست اور سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

اعلان نیویارک جسے جنرل اسمبلی نے 142 ووٹوں سے غیر معمولی اکثریت کے ساتھ منظور کیا، دو ریاستی حل کے لیے عالمی عزم کو مستحکم کرتا ہے اور خطے کے بہتر مستقبل کی طرف ناقابل واپسی راستہ متعین کرتا ہے۔

غزہ کی صورتحال اور متبادل حل

بیان میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کانفرنس کے دوران غزہ میں انسانی المیہ شدید تر ہو رہا ہے۔ اسرائیلی زمینی حملے جاری ہیں اور شہریوں کو ناقابل جواز قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ اس تناظر میں اعلان نیویارک کو تشدد اور جنگوں کے تسلسل کا واحد حقیقی اور عملی متبادل قرار دیا گیا۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت

بیان میں فلسطینی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی تربیت اور تیاری کے لیے امریکی، یورپی اور اقوام متحدہ کے جاری پروگراموں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔

غزہ اور مغربی کنارے کا اتحاد

سعودی عرب اور فرانس نے فلسطینی اتھارٹی کے اعلان "ایک ریاست، ایک حکومت، ایک قانون اور ایک ہتھیار" کی پالیسی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کو اتھارٹی کے تحت متحد کرنا ضروری ہے۔

حماس کے ہتھیار جمع کرنا

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ میں حماس کی حکمرانی کا خاتمہ، اس کے ہتھیاروں کی ضبطگی اور انہیں فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کرنا لازمی ہے تاکہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جا سکے۔

نیویارک کانفرنس کی تاریخی اہمیت

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ میں منعقدہ اس کانفرنس نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ سعودی عرب اور فرانس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ زبانی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کریں۔

فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا سلسلہ جاری

بیان میں آسٹریلیا، بیلجیئم، کینیڈا، لکسمبرگ، مالٹا، پرتگال، برطانیہ، ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے جانب سے فلسطینی ریاست کے باضابطہ اعتراف کا خیرمقدم کیا گیا۔ سعودی عرب اور فرانس نے ان ممالک کو بھی اس عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی جنہوں نے ابھی تک یہ قدم نہیں اٹھایا۔

اسرائیل کے ساتھ امن

بیان میں کہا گیا کہ آزاد، جمہوری اور معاشی طور پر مستحکم فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کی بنیاد ہے۔

محمود عباس کی یقین دہانیاں

صدر محمود عباس کی جانب سے تاریخی عہد ، پرامن حل کی وابستگی، تشدد اور دہشت گردی سے مستقل انکار، غیر مسلح فلسطینی ریاست کا وعدہ اور اصلاحات کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔

جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی

بیان میں غزہ میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی، قیدیوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی بلاروک رسائی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔

اسرائیل سے مطالبات

بیان میں اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ دو ریاستی حل پر واضح عہد کرے، تشدد اور آبادکاری کی پالیسی ترک کرے، فلسطینی زمینوں کے الحاق سے باز رہے اور آبادکاروں کے تشدد کو روکے۔ بیان میں یاد دہانی کرائی گئی کہ الحاق "سرخ لکیر" ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

فلسطینی اصلاحات اور بین الاقوامی حمایت

بیان میں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے قیدیوں کے لیے مالی مراعات کے خاتمے، نصاب کی اصلاحات اور ایک سال کے اندر شفاف انتخابات کرانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا۔ ساتھ ہی ایک ہنگامی مالیاتی اتحاد تشکیل دینے اور فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کی فوری معاونت پر زور دیا گیا۔

خطے میں امن کا راستہ

بیان کے مطابق اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور منصفانہ و پائیدار امن ہی خطے کے مکمل انضمام کا واحد راستہ ہے جیسا کہ عرب امن منصوبے میں تجویز کیا گیا۔ اسی تناظر میں خطے کے لیے ایک مشترکہ سکیورٹی نظام کی تشکیل کی تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔

آخر میں سعودی عرب اور فرانس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس تاریخی موقع کو ضائع نہ کرے اور مشرق وسطیٰ کے تمام عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانے کے لیے مل کر آگے بڑھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں