تونس میں گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملوں میں اسرائیل کا ہاتھ ہے: امریکی انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام براک نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے تونس میں اس امدادی بیڑے پر حملہ کیا تھاجو غزہ کی طرف روانہ تھا۔ اس بیڑے کی دو کشتیاں تونس کے دارالحکومت کے قریب سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھیں جب انہیں ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

تونس کا ذکر اس وقت آیا جب لبنانی تنظیم حزب اللہ کے اسلحہ رکھنے کے جواز کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر ٹام براک نے کہا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں لیکن تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ لبنانی عوام کو اسرائیل سے بچانے کے لیے مسلح ہے۔

امریکی ایلچی نے سکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ اسرائیل شام پر حملہ کرتا ہے، لبنان پر حملہ کرتا ہے اور تونس پر بھی حملہ کرتا ہے۔ اس جارحیت کے تسلسل کے باعث حزب اللہ کی دلیل مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن نے دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جارحیت کئی ملکوں تک پھیل گئی ہے اور ان میں تونس بھی شامل ہے۔

ادھر تونس کی حکومت نے اب تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے حالانکہ اندرون ملک دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تحقیقات کے نتائج اور اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والی قوتوں اور ملوث فریقوں کو بے نقاب کرے۔ حکام نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ ایک منظم حملہ تھا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کی نو تاریخ کو گلوبل صمود فلوٹیلا کی تنظیمی کمیٹی نے بتایا تھا کہ اس کی ایک کشتی پر نامعلوم ڈرون نے حملہ کیا جب وہ سیدی بوسعید کی بندرگاہ پر لنگر انداز تھی۔ اس سے ایک روز قبل بھی اسی قافلے کی ایک اور کشتی کو اسی نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مسلسل حملوں اور رکاوٹوں کے باوجود عالمی قافلہ برائے صمود، جس میں انسانی خدمت کے کارکن، ڈاکٹر، فنکار اور 44 ملکوں سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں، گذشتہ ایک ہفتے سے تیونس سے غزہ کے لیے روانہ ہے۔ اس کا مقصد غزہ کے لیے ایک انسانی راستہ کھولنا اور محاصرے کو توڑنا ہے۔

تاہم اسرائیل نے کل پیر کے روز دھمکی دی کہ وہ ان کشتیوں کو غزہ پہنچنے سے روکے گا۔ اس نے اپنی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا کہ وہ اس بحری محاصرے کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا جسے وہ "قانونی" قرار دیتا ہے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ اس مشن کے پیچھے حماس ہے اور زور دیا کہ تمام جہاز عسقلان کی بندرگاہ کی طرف موڑ دیے جائیں جہاں سے مبینہ طور پر یہ امداد غزہ پہنچائی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں