فرانس اور سعودی شراکت داری سے 'یو این' کے 142 ارکان نےدو ریاستی حل کے لیے ووٹ دیا:میکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فرانس کے صدر میکروں نے کہا ہے کہ فرانس اور سعودی عرب نے مل کر اقوام متحدہ کے 142 ارکان کو دو ریاستی حل کے حق میں ووٹ دینے کے لیے قائل کر لیا ہے۔

انہوں نے اس امر کا اظہار 'العربیہ' کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

میکروں کا کہنا تھا سعودی عرب کی کوششوں اور تعاون سے کامیابی مل رہی ہے اور یہ ایک تاریخی مرحلہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ اس سے سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت گہرے ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے نیو یارک میں کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ہوا اور فلسطین ایشو کو حل کرنے پر زور دیا گیا۔

فرانس کے صدر میکروں نے زور دے کر کہا نیو یارک کانفرنس کا اعلامیہ سعودی عرب کے ساتھ گہرے ارتباط کے نتیجے میں سامنے آیا۔ تاکہ غزہ میں جنگ بندی ہو سکے۔

یہ ایک جامع اور قابل عمل فریم ورک ہے۔ جس کے ذریعے دو ریاستی حل کا نفاذ ممکن ہوگا۔ خطے میں امن و سلامتی کا ثمر سب کو ملے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دستاویز ایک ایسے خاکے کا اظہار ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کمٹمنٹ ظاہر کرتی ہے اور ایک پر امن اور پائیدار حل کے راستے کی طرف لے جاتی ہے۔

انہوں نے اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ سعودی عرب اور فرانس کے درمیان دوستانہ تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ ان کی بنیاد مشترکہ ترجیحات ہیں۔ خصوصا انسانی ترقی، ثقافت، معیشت، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدات دونوں کے درمیان اہم ہیں۔

صدر میکروں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات علاقائی و بین الاقوامی استحکام کے لیے مفید ہیں۔ ان کے یہ خیالات ان کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے ساتھ ہی سامنے آئے ہیں۔ جہاں انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور اس بڑے ہونے والے گروپ کا حصہ بن گئے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جانا حماس کی کامیابی نہیں اس کی شکست ہے۔ کیونکہ یہ عسکری گروپ اب کمزور ہوگیا ہے اور اس کی لیڈرشپ قتل کر دی گئی ہے۔

سعودی عرب نے فرانس اور دیگر ملکوں کی طرف سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا خیر مقدم کیا ہے اور اپنی فرانس کے ساتھ شراکت کے لیے گہری وابستگی ظاہر کی ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ فرانس امن کی حمایت کرنے والی اقوام میں شامل ہے۔ جس کا ایک مظہر دو ریاستی حل کے لیے فرانس کا آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہے کہ کانفرنس کے انعقاد میں فرانس کا کردار غیر معمولی رہا۔

کانفرنس کے مشترکہ بیان میں سعودی عرب و فرانس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بیانات سے آگے بڑھ کر فلسطین کے لیے عملی اقدامات کریں۔

بیان میں غزہ میں جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو ترجیحی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔ نیز غزہ میں مستقل جنگ بندی کی جائے اور انسانی بنیادوں پر امداد و خوراک کی تقسیم میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں اور یہ کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء ممکن بنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں