غزہ کی حکومت میں حماس کا ہر گز کوئی کردار نہیں ہو گا : محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ حماس تنظیم نے سات اکتوبر کو جو کچھ کیا، وہ نا قابلِ قبول ہے اور فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ، فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی وہاں اپنی ذمے داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم عباس نے زور دیا کہ "حماس کا مستقبل میں غزہ کے نظم و نسق میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔" فلسطینی صدر نے حماس پر زور دیا کہ وہ اپنا اسلحہ جمع کرائے اور ادارہ سازی کے عمل میں شریک ہو۔

صدر عباس نے کہا کہ فلسطینی ایک مسلح ریاست نہیں چاہتے بلکہ ایسی ریاست کے خواہاں ہیں جو اسرائیل کے ساتھ پُر امن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیادت نے 1993 میں اوسلو معاہدے کے بعد سے باہمی اعتراف کے اصول پر عمل کیا ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کی فلسطین سے متعلق ایک ہزار سے زائد قراردادیں اب تک نافذ العمل نہیں ہو سکیں۔

انھوں نے غزہ کی صورتِ حال کو "نسل کشی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہو گا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے "گریٹر اسرائیل" کے تصور کو بھی مسترد کیا۔

اپنی تقریر میں عباس نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے میں توسیعی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مشرقی بیت المقدس کو اس کے اردگرد سے الگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام "النکبۃ" (1948 میں اسرائیل کا قیام) کے بعد سے آج تک قتل، گرفتاریوں اور آباد کاری کے بوجھ تلے جی رہے ہیں جب کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔

دو ریاستی حل

صدر عباس کے مطابق فلسطینی قیادت نے اوسلو معاہدے کے بعد سے امن کی ثقافت کو اپنایا ہے، لیکن اسرائیل نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ نیویارک کانفرنس نے تنازع کے خاتمے کے لیے حقیقی عالمی عزم کو اجاگر کیا اور دو ریاستی حل کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت کی واضح نشان دہی کی۔

عباس نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں، کیونکہ یہی قدم خطے میں امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

غزہ کا مستقبل

سات اکتوبر کی جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل پر وسیع بحث جاری ہے۔ فلسطینی قیادت کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو وہاں مکمل اختیار واپس دیا جائے ... اور وہ اس بات پر مصر ہے کہ ہتھیار چھوڑ دینے تک حماس کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں