'قبائل اور دیہات': امریکی ایلچی ٹام براک کا شرقِ اوسط کے وجود پر سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام براک نے اپنے حالیہ متنازعہ تبصروں میں جمعہ کو دعویٰ کیا ہے کہ خودمختار ممالک پر مشتمل ایک خطے کے طور پر شرقِ اوسط کا وجود نہیں ہے۔

جدید قومی ریاستیں 1916 میں برطانویوں اور فرانسیسیوں نے بنائی تھیں، اس پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے صحافیوں سے کہا، "کوئی شرقِ اوسط نہیں ہے۔ یہ قبائل اور دیہات ہیں۔"

امریکی سفیر نے کہا کہ استعماری طاقتوں نے جدید شرقِ اوسط کے لیے قومی ریاستیں بنانے کی غرض سے سلطنتِ عثمانیہ میں "سیدھی لکیریں" کھینچیں۔

انہوں نے کہا، "لیکن شرقِ اوسط اس طرح کام نہیں کرتا۔ یہ فرد، خاندان، گاؤں، پھر قبیلے، برادری، مذہب سے شروع ہوتا ہے۔ اور آخر میں قوم۔"

ایک ویڈیو کلپ میں بظاہر براک قومی ریاستوں کے بیک وقت وجود اور شرقِ اوسط کے نسلی گروہوں کی متنوع کثرت کے درمیان اختلاف کی وضاحت کر رہے ہیں۔

وہ اسے ایک "خام خیالی یا وہم" کیوں کہتے ہیں، اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، یہ توقع کرنا ناممکن ہے کہ "27 مختلف اقوام جن میں 110 مختلف نسلی گروہ ہیں، وہ سیاسی تصورات میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔"

انہوں نے کہا، شرقِ اوسط کے ممالک میں لوگ صرف اس سوچ سے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں کہ "میری زندگی اور میرے بچوں کی زندگی بہتر ہو"۔

گذشتہ ماہ صدارتی محل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی اہلکار نے لبنانی صحافیوں کو "جانورانہ" قرار دیا جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

براک نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا، "براہِ کرم ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جائیے۔ جس لمحے یہ انتشار کا شکار، جانورانہ ہونے لگتا ہے تو بات ختم ہو جاتی ہے۔ تو کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ مہذبانہ، مہربان، روادار بن کر رہیں کیونکہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی مسئلے کی وجہ سے ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں