جنگ بندی کے لیے فلسطینی پیش کش پر کام کیا گیا مگر وہ منظرِ عام پر نہ آ سکی : حماس رہنما

پیش کش میں غزہ کا معاملہ عرب لیگ اور عرب و اسلامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی شق شامل تھی : علاء البطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں خان یونس کے میئر اور حماس کے رہنما علاء البطہ نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ایک فلسطینی منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن وہ عملی شکل نہ اختیار کر سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ "بلدیات، سول سوسائٹی اور مقامی عمائدین" کے نام سے جاری ہونا تھا مگر بعض شخصیات نے ذاتی مستقبل کے خدشات کے باعث اس پر دستخط سے انکار کر دیا۔

اس منصوبے میں تجویز دی گئی تھی کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک عرب اور بین الاقوامی ثالثی کمیٹی کے حوالے کیا جائے، جس کے بعد جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہو۔ مزید کہا گیا تھا کہ غزہ کا انتظام عرب لیگ اور عرب اسلامی کمیٹی کے سپرد کیا جائے اور ایک عبوری عرب فورس کی مدد سے ایک کمیٹی غزہ کے امور سنبھالے۔

منصوبے میں ایک ماہر وفد تشکیل دینے کی بھی شق شامل تھی جو اسرائیل سے مذاکرات کرے، اور اس کی قیادت فلسطینی اتھارٹی کو دی جائے۔ علاء البطہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ڈھانچہ ہے جسے فعال اور مؤثر بنا کر سیاسی عمل اور انتظامی ذمہ داری سنبھالنی چاہیے۔

ادھر امریکا نے اسی ہفتے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر مشرق وسطیٰ کے لیے 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں دو برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

العربیہ کے مطابق اس منصوبے میں جنگ فوری طور پر ختم کرنے اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے 100 تا 200 سخت سزاؤں والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تجویز ہے۔ ساتھ ہی حماس کو ہتھیار ڈال کر غزہ چھوڑنے کے بدلے معافی کی پیشکش شامل ہے۔

منصوبے کے تحت "غزہ ہیومنیٹرین فاؤنڈیشن" بند کر دی جائے گی اور انسانی امداد کی ترسیل براہ راست اقوام متحدہ و بین الاقوامی اداروں کے سپرد ہو گی۔ اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ کی پٹی سے نکلیں گی اور محفوظ گزرگاہیں قائم کی جائیں گی۔

مزید یہ کہ پانچ سالہ مدت میں بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے غزہ کی تعمیر نو اور ایک فلسطینی سکیورٹی فورس کا قیام شامل ہے، جو عرب و عالمی نگرانی میں انتظام سنبھالے گی۔

فی الحال تقریباً 45 اسرائیلی قیدی غزہ کی پٹی میں موجود ہیں، جن میں سے نصف کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کی پٹی میں جنگ میں 60 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں اور کئی علاقوں میں قحط پھیل چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں