امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے مطابق ایچ ون بی ویزوں کے بارے میں اضافہ ایک لاکھ ڈالر کی فیس عائد کیے جانے کے بعد امریکی کمپنیاں اپنے منصوبے بھارت منتقل کرنے پر غور کرنے لگیں۔ تاکہ نئی اور بھاری ویزا فیس کے اطلاق سے اپنے اخراجات میں اضافہ روک سکیں۔
امریکی کمپنیوں کے اس نئے چیلنج کو ماہرین بھی پوری طرح سمجھ رہے اور صنعتوں کے اندرونی ذرائع بھی اس بارے میں یہ کمپنیاں ایسا سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ وہ امریکہ میں ان بھارتی ورکرز کو بلانے کی بجائے خود بھارت میں اپنے یونٹس کو منتقل کریں۔
بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہونے کے ناطے 1700 'گروتھ آف گلوبل کیپیبلٹی سنٹر' جی سی سیز کا گھر ہے۔ جو دنیا بھر کے ٹوٹل کا نصف سے زیادہ بنتی ہیں۔
یوں یہ اعلیٰ ترین ایجادات کے حوالے سے ابھی اہم ہے کہ اس میں انتہائی پرتعیش گاڑیاں ڈیزائن کی جاتی ہیں اور ادویات کی دریافت ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کو اختیار کرنے کے رجحان میں اضافہ اور ویزوں کے معاملے میں سختی امریکی کمپنیوں کو اس جانب دھکیل رہی ہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کے بارے میں اپنی سٹریٹیجی کو نئے سرے سے ڈیزائن کریں۔
بھارت میں 'جی سی سیز' کے لیے ایک ایسا مرکز بن رہا ہے جو بین الاقوامی سطح پر ضرورت کی مہارتوں کو کثیر جہتی مہارتوں میں بدل دے گا اور جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر بھارت کے حامی لوگوں کی ایک نئی قیادت ابھرے گی۔
ڈیلوئٹ انڈیا کے پارٹنر اور جی سی سی انڈسٹری لیڈر روہن لوبو نے کہا 'جی سی سیز' آج کل منفرد مقام سے گزر رہی ہے۔ یہ ان ہاؤس انجن کے طور پر کام کر رہی ہے۔ نیز اس طرح کی تبدیلی سے متعلق منصوبے پہلے سے ہی جاری ہیں۔
روہن لوبو نے کہا اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ 'جی سی سیز' سٹریٹیجک بنیادوں پر جدت کی قیادت میں مینڈیٹ حاصل کریں گے۔'
خیال رہے صدر ٹرمپ نے اسی ماہ ایچ ون بی ویزا درخواست کی لاگت 2000 ڈالر اور 5000 ڈالر سے بڑھا کر 100000 ڈالر کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسی فرمز اور کمپنیوں پر دباؤ بڑھا ہے جو غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔
امریکی سینیٹرز نے پیر کے روز 'ایچ ون بی ویزا' اور 'ایل ون' ورکر ویزوں سے متعلق بل پیش کیا ہے۔ اس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ویزا پالیسیوں سے متعلق قوانین کو سخت کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کی ویزا پابندیوں کو اگر چیلنج نہیں کیا جاتا ہے تو اس امر کا امکان موجود ہے کہ مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور دیگر شعبوں سے متعلق کمپنیاں اپنا کام بھارت منتقل کرلیں گی۔ ماہرین کے مطابق ویزا پالیسیوں میں حالیہ تبدیلیوں سے پہلے بھی کمپنیاں بھارت منتقلی پر سوچ رہی تھیں۔