اسرائیلی فوج نے غزہ میں "خطرناک دنوں" کے لیے تیاری شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو قبول یا مسترد کرنے کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اسی دوران اسرائیلی فوج نے "خطرناک دنوں" کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے منگل کو غزہ کا دورہ کیا، جہاں انھوں نے ایلیٹ یونٹس کے اہل کاروں سے ملاقات کی۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق انھوں نے فوجیوں کو چوکنا رہنے اور ہر ممکن تیاری کی ہدایت کی۔

زامیر نے دفاعی مقامات پر تعینات فوجیوں پر زور دیا کہ وہ مکمل طور پر تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمانڈروں کی موجودگی ہمیشہ اگلی صفوں میں ہونی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مورچوں میں جمود کے بجائے متحرک رہنا ضروری ہے۔

ایال ضمیر غزہ میں آئی ڈی ایف کمانڈروں کے ساتھ (اسرائیلی میڈیا)
ایال ضمیر غزہ میں آئی ڈی ایف کمانڈروں کے ساتھ (اسرائیلی میڈیا)

زامیر نے کہا کہ "غزہ میں کارروائیاں منصوبے کے مطابق جاری رہیں گی اور رکیں گی نہیں"۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کے مطابق آئندہ دنوں کے حملوں کے منصوبے پہلے ہی طے کر لیے گئے ہیں۔

امن منصوبے کی ناکامی کے امکان کے ساتھ ساتھ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کی شام کہا تھا کہ "اگر غزہ کو غیر عسکری بنانے اور حماس کو تحلیل کرنے کے مراحل پر عمل نہیں کیا گیا تو اسرائیل یہ مشن خود مکمل کرے گا"۔

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس نے پیر کو اس 20 نکاتی منصوبے کی تفصیلات جاری کی تھیں، جس کا مقصد غزہ کے تباہ حال علاقے میں امن قائم کرنا ہے۔ اس میں ایک "عارضی بین الاقوامی استحکام فورس" کی تعیناتی، "کونسل برائے امن" کا قیام (جس کی سربراہی ٹرمپ خود کریں گے اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گے) اور بعد کے مراحل میں فلسطینی اتھارٹی کو جزوی کردار دینا شامل ہے۔

ٹرمپ نے حماس کو 3 سے 4 دن کا وقت دیا ہے تاکہ وہ امریکی تجویز کا جواب دے۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے منصوبہ قبول نہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں