امریکہ نے صدر ٹرمپ کے دستخطوں سے جاری کیے گئے ایک حکمنامے کے ذریعے قطر سے وعدہ کیا ہے کہ قطر کے خلاف سفارتی، معاشی اور اگر ضروری ہوا تو فوجی حملوں کی صورت میں امریکہ کی طرف سے جواب دیا جائے گا اور اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر پر 29 ستمبر 2025 کو دستخط کیے۔ اس سے کئی ہفتے پہلے اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے حکم سے قطری دارالحکومت دوحہ میں فوجی بمباری کی گئی تھی اور یہ بمباری اس وقت کی گئی جب حماس کے رہنما صدر ٹرمپ کی ایک تجویز پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے غور کر رہے تھے۔ اسرائیل نے بعدازاں مؤقف اختیار کیا کہ اس کا ہدف صرف حماس کے قائدین اور مذاکرات کار تھے۔
اب امریکی صدر نے اپنے ریاستی حکمنامے میں یہ قرار دیا ہے کہ امریکہ برسہا برس سے اپنے پکے اتحادی قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی کے واقعات کو جانتے ہوئے اور قطر کو مسلسل جاری خطرات کے پیش نظر یہ امریکہ کی پالیسی ہے کہ وہ قطر کو سلامتی و علاقائی استحکام کی ضمانت دے اور کسی بھی قسم کے بیرونی حملے کے خلاف اس کے ساتھ کھڑا ہو۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ قطر کی علاقائی خودمختاری اور اس کے اہم انفراسٹرکچر کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے اور حملے کو امریکہ کے امن و سلامتی کے خلاف خطرہ سمجھے گا۔
اس لیے امریکہ ایسے کسی بھی موقع پر ان تمام قانونی و ضروری اقدامات کو ممکن بنائے گا جو سفارتی، معاشی اور اگر ضروری ہوا تو فوجی حوالے سے اہم ہوں گے۔ تاکہ امریکہ کے مفادات اور قطر کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور امن و استحکام کو بحال رکھا جا سکے۔
اس سلسلے میں امریکی صدر کی طرف سے ہینٹاگون، دفتر خارجہ اور نیشنل انٹیلی جنس کے ادارے کو بھی یہ احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ قطر کے ساتھ مل کر مختلف متبادل منصوبوں پر کام کریں اور ان کی ایسے تیاری کریں کہ کسی بھی موقع پر جواب دینا ہو تو تیز رفتاری سے جواب دیا جاسکے اور قطر کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کو روکا جا سکے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ایک سہ طرفہ فون کال پر اسرائیلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو اور قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی کو بھی اعتماد میں لیا اور ایک کانفرنس کال میں دونوں طرف اپنا مؤقف وضاحت سے پیش کیا۔
قطر کی طرف سے اس سے پہلے ہی یہ مطالبہ سامنے آچکا ہے کہ اسرائیل اپنے جارحانہ حملے کے سلسلے میں قطر سے سب کے سامنے معافی مانگے۔ اس بارے میں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز نیتن یاہو سے ہونے والی ملاقات میں بھی ان سے بات کی اور قطر کا معافی مانگنے کا مطالبہ ان کے سامنے رکھا۔
پینٹاگون کے ایک سابق سینیئر مشیر نے قطر کے دفاع کے لیے امریکی صدر کے اس حکمنامے پر دستخطوں کو کافی غیر معمولی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قطر کو اس حکمنامے کے ذریعے سلامتی و سیکیورٹی کی وہ ضمانت دی گئی ہے جو اسرائیل کو بھی نہیں دی گئی۔
ہاں ابھی کانگریس نے اس کی منظوری نہیں دی اس کے باجود یہ بہت اہم بات ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار اور امریکی فوج کے کمانڈر انچیف کے دستخطوں سے یہ حکمنامہ جاری کیا گیا ہے۔