امریکہ : فلسطینی نژاد بچی کو ڈبونے کی کوشش، ٹیکساس میں خاتون کو پانچ برس قید

مقامی پولیس کے مطابق اس جرم کی بنیاد نسلی تعصب تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک امریکی عدالت نے ریاست ٹیکساس کی ایک خاتون کو ایک 3 سالہ مسلم امریکی بچی کو ڈبونے کی کوشش کرنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ واقعہ مئی 2024 میں پیش آیا تھا۔ مقامی پولیس کے مطابق اس جرم کی بنیاد نسلی اور مذہبی تعصب تھا۔

عدالتی ریکارڈ اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات کو سی بی ایس نیوز چینل اور فورت ورتھ اسٹار ٹیلیگرام نے رپورٹ کیا۔ ان کے مطابق جج اینڈی پورٹر نے 43 سالہ الزبتھ وولف کو سزا سنائی۔ اس نے فلسطینی نژاد ننھی بچی کے قتل اور زخمی کرنے کی کوشش کے الزام میں اقبالِ جرم کیا تھا۔

یہ الزام گزشتہ سال عائد کیا گیا تھا اور اُس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے اس کی مذمت کی تھی۔ انسانی حقوق کے کارکنان خبردار کر رہے ہیں کہ 2023 میں حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے امریکی مسلمانوں، عربوں اور یہودیوں کے خلاف خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ واقعہ ریاست ٹیکساس کے شہر ایولس میں ایک رہائشی کمپلیکس کے سوئمنگ پول میں پیش آیا۔ وولف کا بچی کی والدہ سے جھگڑا ہوا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ماں اپنے 6 سالہ بیٹے کے ساتھ پول میں موجود تھی جب وولف نے ان سے اُن کے آبائی علاقے کے بارے میں سوال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وولف نے 3 سالہ بچی کو ڈبونے اور اس کے بھائی کو پکڑنے کی کوشش کی، تاہم والدہ نے بیٹی کو فوراً پانی سے باہر نکال لیا۔ طبی عملے نے دونوں بچوں کا معائنہ کیا اور ان کی خیریت کی تصدیق کی۔

امریکا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب پر تشویش میں اضافے کا سبب ایسے واقعات بھی ہیں، جن میں الینوائے میں 6 سالہ امریکی فلسطینی نژاد بچے کا وحشیانہ قتل، ٹیکساس میں ایک اور فلسطینی نژاد امریکی پر چاقو سے حملہ اور کیلیفورنیا میں فلسطین حامی مظاہرین پر تشدد شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں