مسیحی کیتھولک فرقے کے 14ویں پوپ لیو نے اتوار کے روز غزہ کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غزہ میں امن کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
انہوں نے اس موقع پر غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
پوپ کے یہ ریمارکس ایک سفارتی بیان کی صورت سامنے آیا ہے جو انہوں نے حماس کی طرف سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر مثبت ریسپانس سامنے آنے کے بعد دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ چند گھنٹوں میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ جس سے غزہ میں امن مذاکرات کی امید بڑی ہے اور مجھے بڑی امید ہے کہ مطلوبہ نتائج جلد ممکن ہوجائیں گے۔
وہ ان خیالات کا اظہار ویٹی کن میں ایک بڑے اجتماع سے گفتگو کرتے ہوئے کر رہے تھے۔
پوپ نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ وہ تمام ذمہ دار لوگوں سے کہیں گے کہ وہ اس سلسلے میں امن کے اس راستے میں آگے بڑھیں۔ تاکہ جنگ بندی ہو اور اسرائیلی قیدی رہا ہوں۔ جس کے نتیجے میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن ممکن ہو سکے۔
کیتھولک مسیحی فرقے کے سربراہ نے دنیا میں یہود مخالف نفرت بڑھنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جمعرات کے روز ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے میں دو افراد کے ہلاک اور تین کے زخمی ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں غزہ میں فلسطینیوں پر بیتنے والے مصائب پر بھی بہت رنجیدگی ہے۔
-
حزب اللہ نے غزہ سے متعلق ٹرمپ پلان کی حمایت کر دی
جنگ بندی کے لیے حماس اور دیگر فصائل کے ساتھ مکمل ہم آہنگی
مشرق وسطی -
اسرائیل غزہ کی حماس مخالف ملیشیا کی معاونت کرتا ہے: سکائی نیوز کے نئے انکشافات
پاپولر فورسز غزہ کی آئندہ حکمرانی میں کردار کی خواہشمند، اسرائیل کی تقسیم پیدا ...
مشرق وسطی -
جرمنی : ٹرمپ کا امن منصوبہ غزہ کے لیے ایک انتہائی منفرد موقع ہے
جرمنی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک فیصلہ کن انداز میں مشرق وسطیٰ کے امن کے ...
بين الاقوامى