غزہ کے حوالے سے بات چیت میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے : ٹرمپ

امریکی صدر کے مطابق تکنیکی ٹیمیں پیر کے روز مصر میں دوبارہ ملاقات کریں گی تاکہ حتمی تفصیلات پر بات چیت اور وضاحت کی جا سکے.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے اور حماس کے زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "یہ مذاکرات انتہائی کامیاب ثابت ہوئے ہیں اور تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے ہیں"۔ انھوں نے مزید کہا کہ "تکنیکی ٹیمیں پیر کو دوبارہ مصر میں ملاقات کریں گی تاکہ حتمی تفصیلات پر بات چیت اور وضاحت کی جا سکے"۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ "مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ پہلا مرحلہ اسی ہفتے مکمل کیا جانا طے ہے اور میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ تیزی سے کام کریں"۔

"اسرائیل کے لیے عظیم معاہدہ"

اس سے قبل اتوار کو ہی ایک موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کا طے شدہ معاہدہ "اسرائیل کے لیے ایک عظیم سمجھوتا" ہے۔

انھوں نے حماس کے اس ردِ عمل کا بھی خیرمقدم کیا جس میں تنظیم نے ان کے 20 نکاتی منصوبے کے کچھ اہم حصوں سے اتفاق کیا، جن میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا اور اسرائیلی زیرِ حراست افراد کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ یہ بات روئٹرز نیوز ایجنسی نے بتائی۔

"حماس کا مکمل خاتمہ"

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے اقتدار چھوڑنے اور غزہ کا کنٹرول منتقل کرنے سے انکار کیا تو "اس کا مکمل خاتمہ" کر دیا جائے گا۔

ہفتے کے روز سی این این (چینل) کو دیے گئے انٹرویو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیرِ اعظم بم باری روکنے اور امریکا کے وسیع تر وژن سے متفق ہیں تو امریکی صدر کا کہنا تھا "ہاں".

ٹرمپ کے مطابق انھیں توقع ہے کہ جلد معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس امن کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔

شرم الشیخ مذاکرات

مصری وزارتِ خارجہ نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ وہ 6 اکتوبر کو شرم الشیخ شہر میں اسرائیل اور حماس کے وفود کی میزبانی کرے گی تاکہ زمینی صورتِ حال کے تقاضوں اور تمام اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے طریقہ کار پر بات چیت کی جا سکے۔

اسی دوران مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر بھی مصر پہنچے تاکہ قیدیوں کی رہائی کے حتمی انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ یہ بات ایک امریکی عہدے دار نے ہفتے کو بتائی۔

ٹرمپ کا منصوبہ

یاد رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد غزہ کی جنگ کو ختم کر کے امن قائم کرنا ہے۔

اس منصوبے میں بنیادی طور پر تمام زندہ اور ہلاک اسرائیلی قیدیوں کی فوری رہائی کے بدلے اسرائیل کی جانب سے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کا تدریجی انخلا غزہ سے کیا جائے گا، جس کا کوئی مخصوص وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے غزہ سے اسلحہ ہٹایا جائے گا اور حماس کو علاقے کی حکمرانی سے ہٹایا جائے گا۔

مزید یہ کہ ایک عبوری انتظامی اتھارٹی تشکیل دی جائے گی جو بین الاقوامی نگرانی اور شرکت کے ساتھ غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ بعد ازاں یہ ذمہ داری فلسطینی اتھارٹی کے سپرد کر دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں