اسرائیلی حکومت نے جمعے کو علی صبح حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ اس کے نتیجے میں اگلے 24 گھنٹوں کے اندر غزہ میں لڑائی رکنے اور 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے یہ منظوری ثالثی ممالک کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر مبنی معاہدے کا اعلان کیے جانے کے ایک روز بعد دی۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اُس امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے جس کا مقصد دو سال سے جاری غزہ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے "ایکس" اکاؤنٹ پر انگریزی میں لکھا گیا کہ "حکومت نے ابھی ابھی ایک ایسے دائرہ عمل کی منظوری دی ہے، جس کے تحت تمام یرغمالیوں ... خواہ زندہ ہوں یا مردہ .... انھیں رہا کیا جائے گا۔"
دوسری جانب، دو اعلیٰ امریکی عہدے داروں نے جمعرات کو بتایا کہ امریکہ ایک مشترکہ ٹاسک فورس کے حصے کے طور پر اپنے 200 فوجی تعینات کرے گا۔ اس کا مقصد غزہ میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی سرزمین پر کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہو گا۔
دونوں حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فوجی ایک وسیع تر ٹاسک فورس کا اہم جزو ہوں گے، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکی اہل کاروں کے ٹھکانے کا تعین ابھی نہیں ہوا، لیکن وہ ایک مشترکہ کنٹرول سینٹر قائم کریں گے اور ان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے جو غزہ میں کام کریں گی، تاکہ اسرائیلی فوج کے ساتھ کسی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔
ایک عہدے دار نے یہ بھی واضح کیا کہ "کسی امریکی فوجی کے غزہ میں داخل ہونے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔"
اسی بارے میں ایک اور امریکی عہدے دار نے "العربیہ انگلش" کو بتایا کہ تقریباً 200 امریکی فوجی اسرائیل جائیں گے اور ان کی تعیناتی ہفتے کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
انھوں نے بتایا کہ یہ فوجی "اسرائیل میں ایک رابطہ کاری مرکز کے قیام اور منصوبہ بندی میں مدد دیں گے، جہاں تمام متعلقہ فریق، شراکت دار ممالک، غیر سرکاری تنظیمیں اور سرمایہ کار مل کر ایک منظم اور مربوط طریقے سے کام کر سکیں گے، تاکہ سول انتظامیہ میں منتقلی کا عمل مؤثر اور منظم ہو۔"
عہدے دار نے وضاحت کی کہ یہ مرکز ابھی قائم نہیں کیا گیا، اور امریکی ٹیم کا پہلا کام اس کے قیام کی جگہ کا تعین کرنا ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ "یہ مرکز امریکہ اور اس کے شراکت دار ممالک کو جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی میں مدد دے گا۔"
انھوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں کسی امریکی فوجی کی تعیناتی نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شام اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان "غزہ منصوبے" کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی شقیں شامل ہیں۔
یہ معاہدہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دو سال مکمل ہونے کے صرف ایک روز بعد سامنے آیا۔ مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں امریکی امن منصوبے کے 20 نکاتی خاکے کے پہلے مرحلے پر اتفاق رائے طے پایا، جس کا مقصد غزہ کی جنگ ختم کرنا ہے۔