انڈونیشیا کا غزہ جنگ کے پیشِ نظر اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں اسرائیل حملوں پر غم و غصے کے درمیان انڈونیشیا نے اسرائیلی جمناسٹ کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث وہ اس ماہ جکارتہ میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں شرکت سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ بات جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں کھیلوں کے ایک اہلکار نے جمعہ کے روز کہی۔

اسرائیلی ٹیم کو 19 تا 25 اکتوبر دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں ہونے والی ورلڈ آرٹسٹک جمناسٹک چیمپئن شپ میں شرکت کرنی ہے۔ ملک کے اسرائیل سے کوئی رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

انڈونیشیا کی جمناسٹک فیڈریشن کی سربراہ ایتا جولیاتی نے نامہ نگاروں کو بتایا، "اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ وہ شرکت نہیں کر رہے۔"

اسرائیل جمناسٹکس فیڈریشن نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

جکارتہ کی حکومت اور اسلامی علماء کونسل جیسے گروپوں کے اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے قانونی امور کے سینئر وزیر یُسرل اِحزا مہندرا نے کہا کہ انڈونیشیا نے اسرائیلی ایتھلیٹس کو ویزے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ انڈونیشیا کی اس پالیسی کے مطابق ہے کہ جب تک اسرائیل "ریاست فلسطین کی آزادی اور مکمل خودمختاری کو تسلیم نہ کر لے"، اس سے تعلقات نہ رکھے جائیں، یُسرل نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا۔

انڈونیشیا کی جمناسٹک فیڈریشن کی ایک حالیہ انسٹاگرام پوسٹ پر صارفین نے فلسطینیوں کی حمایت میں سینکڑوں تبصرے کیے جس سے چند دن قبل ایک اسرائیلی ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ وہ جکارتہ کی تقریب میں شرکت کرے گی۔

صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے ماتحت انڈونیشیا نے اسرائیل سے متعلق اپنے مؤقف میں قدرے نرمی کی ہے۔

پرابوو نے گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا، دنیا میں ایک آزاد فلسطین ہونا چاہیے لیکن اسے اسرائیل کے تحفظ اور سلامتی کو بھی تسلیم کرنا اور اس کی ضمانت دینی چاہیے۔

دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں سے متعلق یہ پہلا تنازعہ نہیں ہے۔

مارچ 2023 میں ایک علاقائی گورنر نے اسرائیلی ٹیم کی میزبانی سے انکار کر دیا جس کے بعد فیفا نے وعدے پورے کرنے میں ناکامی کو بنیاد بنا کر انڈونیشیا کو انڈر 20 ورلڈ کپ کی میزبانی سے محروم کر دیا تھا۔

گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے فیفا اور یونین آف یورپین فٹ بال سے مطالبہ کیا تھا کہ "مقبوضہ فلسطینی علاقے میں جاری نسل کشی سے نمٹنے کے لیے ضروری ردِعمل" کے طور پر اسرائیل کو بین الاقوامی فٹ بال سے ایک ملک کی ٹیم کے طور پر معطل کر دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں