ٹرمپ کا خواب چکنا چور! امن کا نوبل انعام وینزویلا کی ماریہ کورینا کے نام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

رواں سال کے امن کے نوبیل انعام کے حقدار کا اعلان کر دیا گیا ہے اور یہ اعزاز وینزویلا کی خاتون ماریہ کورینہ مچارو کو دیا گیا، جنہیں جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد پر یہ ایوارڈ ملا اور اس سال بھی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل انعام سے محروم رہے۔

وینزویلا کی جمہوریت پسند رہنما ماریہ کورینا مچاڈو اپنے ملک میں عوامی آزادی اور سیاسی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کا نشان سمجھی جاتی ہیں۔

اوسلو میں ہونے والی ایک پروقار تقریب میں رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنس کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے کہا کہ مچاڈو کی تحریک نے نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکہ میں جمہوری شعور کو دوبارہ زندہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مچاڈو نے ظلم، جبر اور سیاسی استبداد کے مقابلے میں عوامی طاقت کی مثال قائم کی۔

ماریہ کورینا مچاڈو نے اپنی سیاسی جدوجہد میں انسانی حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی اور شفاف انتخابی نظام کے لیے آواز بلند کی، جس کے باعث انہیں کئی بار گرفتار اور دھمکیاں دی گئیں، تاہم ان کی استقامت اور قیادت نے عالمی سطح پر انہیں جمہوریت کی علامت بنا دیا۔

یاد رہے کہ نوبیل امن انعام ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جو بین الاقوامی امن، دوستی اور انسانی وقار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کریں۔

اس سال مچاڈو کے انتخاب کو عالمی تجزیہ کار لاطینی امریکا میں سیاسی اصلاحات کی نئی لہر قرار دے رہے ہیں۔

امن نوبیل انعام کے اعلان کی تقریب ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہوئی، جس میں کمیٹی نے ماریہ کورینہ مچارو کو وینزویلا میں جمہوریت کے فروغ اور آزادانہ انتخابات کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا، تاہم ایوارڈ رسمی طور پر 10 دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔

نوبیل امن کمیٹی کی جانب سے اس سال 338 نامزدگیوں پر غور کیا گیا، جن میں صدر ٹرمپ بھی شامل تھے، لیکن وہ اس بار بھی انعام حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

نوبیل انعام کا آغاز الفریڈ نوبیل کی وصیت سے ہوا تھا، جنہوں نے اپنے بیشتر اثاثے ایک فنڈ کے طور پر قائم کیے تاکہ علم، ادب، سائنس اور امن کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو یہ اعزاز دیا جا سکے۔

مچاڈو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ انعام صرف ان کے لیے نہیں بلکہ وینزویلا کے اُن تمام شہریوں کے لیے ہے جو آزادی، انصاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

کمیٹی نے کہا کہ ماریہ کورینہ نے وینزویلا میں جمہوریت کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور کئی مشکلات برداشت کیں۔

یہ عالمی اعزاز امن، انسانی حقوق اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے دیا جاتا ہے اور اپنی 124 سالہ تاریخ کے ساتھ آج بھی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 ماریہ کورینا مچاڈو

پہلا نوبیل امن انعام 1901 میں دیا گیا اور یہ ایوارڈ ہر سال ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں 10 دسمبر کو نوبیل کی برسی کے موقع پر پیش کیا جاتا ہے، اب تک یہ اعزاز نیلسن منڈیلا، مدر ٹریسا، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، ملالہ یوسفزئی اور وانگاری ماتھائی سمیت کئی عالمی شخصیات کے حصے میں آچکا ہے۔

نوبیل امن انعام آج بھی اُن لوگوں کی پہچان ہے جو نفرت کے بجائے امن اور طاقت کے بجائے انصاف پر یقین رکھتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے خاصے پرامید تھے اور اعلان سے چند گھنٹے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں