غزہ کے انتظام میں فرانس کا ’’خصوصی کردار‘‘ ہوگا:فرانسیسی صدر عمانویل میکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا ہے کہ فرانس آئندہ مرحلے میں غزہ کے انتظام میں ایک ’’انتہائی خاص کردار‘‘ ادا کرے گا، جو فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مل کر انجام دیا جائے گا۔

میکروں نے یہ بات پیر کے روز مصر کے شہر شرم الشیخ پہنچنے پر کہی، جہاں وہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرصدارت ’’ امب سربراہ کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ایک خصوصی کردار ادا کریں گے۔ ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ اتھارٹی کو اس عمل میں مؤثر کردار ملے اور وہ جنگ کے بعد درکار اصلاحات پر عمل کرے‘‘۔

فرانسیسی صدر نے بتایا کہ فلسطینی صدر محمود عباس شرم الشیخ سمٹ میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے اسے ’’انتہائی مثبت اشارہ‘‘ قرار دیا جو فلسطینی اتھارٹی کے ’’ایک آئینی اور معتبر ادارے‘‘ کے طور پر کردار کا اعتراف ہے۔

ادھر پیر کے روز حماس نے اپنے قبضے میں موجود 20 اسرائیلی مغویوں کو زندہ حالت میں رہا کر دیا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچے جہاں وہ کنیسٹ سے خطاب کے بعد شرم الشیخ میں غزہ سے متعلق امن کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا پہلا مرحلہ

امریکی صدر کی منصوبہ بندی کے مطابق جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی مغویوں کی واپسی کے ساتھ اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں اور ان 1700 افراد کو رہا کرے گا جنہیں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

فرانسیسی صدر میکروں نے حماس کی جانب سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل، غزہ اور پورے خطے کے لیے امن اب ممکن ہو گیا ہے‘‘۔

غزہ کے مستقبل کے انتظام پر بات چیت

شرم الشیخ کانفرنس میں غزہ کے آئندہ انتظامی ڈھانچے پر بات چیت ہوگی۔ جنگ سے تباہ حال اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ اسی اجلاس میں طے پانے کی توقع ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شرم الشیخ سربراہ اجلاس کے دوران ان ممالک کے درمیان ایک دستاویز پر دستخط ہوں گے جنہوں نے جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ ان میں امریکہ، مصر، قطر اور ممکنہ طور پر ترکیہ شامل ہوں گے، جو ’’ضامن ممالک‘‘ کے طور پر اس معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ٹرمپ منصوبہ: مرحلہ وار انخلا اور بین الاقوامی نگرانی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت اسرائیل اپنی افواج کو مرحلہ وار غزہ کے شہروں سے واپس بلائے گا اور ان کی جگہ مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے دستوں پر مشتمل ایک کثیرالقومی فورس تعینات کی جائے گی۔ اس فورس کا آپریشنل کنٹرول اسرائیل میں قائم امریکی نگران مرکز کے تحت ہوگا۔

منصوبے کے مطابق حماس کو غزہ کے انتظام سے مکمل طور پر خارج کر کے اس کے ہتھیار ضبط کر لیے جائیں گے، جب کہ علاقے کے امور ایک ’’غیر سیاسی فلسطینی ٹکنوکریٹ کمیٹی‘‘ کے سپرد کیے جائیں گے۔ یہ کمیٹی ایک نئی ’’عبوری بین الاقوامی اتھارٹی‘‘ کے ماتحت ہوگی جس کی سربراہی امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں