انڈونیشیا کے صدر کی ٹرمپ سے نجی درخواست ... اسپیکر کے سبب شرمندگی اٹھانا پڑی
ٹرمپ اور پرابوو کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی گفتگو ایک اسپیکر کے ذریعے نشر ہو رہی ہے
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی کہ وہ اپنے بیٹے ایرک ٹرمپ سے ملاقات کروائیں، جو ٹرمپ فاؤنڈیشن کے نائب صدر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
یہ گفتگو پیر کے روز اس وقت ہوئی جب دونوں رہنما مصر میں شرم الشیخ کے سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس دوران ایک اسپیکر کے ذریعے باتیں ریکارڈ ہو گئیں ... اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی باتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔
اجلاس میں دونوں رہنما غزہ کے علاقے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شرم الشیخ کے ریزورٹ میں کھڑے تھے۔ وائٹ ہاؤس یا واشنگٹن میں انڈونیشی سفارت خانے نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ریکارڈ شدہ آڈیو میں واضح نہیں کہ انڈونیشی صدر سوبیانتو ... ٹرمپ فاؤنڈیشن یا امریکی صدر اور ان کے اہلِ خانہ کے کسی کاروباری معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے یا نہیں۔
بات کرتے ہوئے پرابوو نے ٹرمپ کی توجہ ایک "غیر محفوظ علاقے" کی جانب دلائی اور پھر پوچھا "کیا میں ایرک سے ملاقات کر سکتا ہوں؟"
ٹرمپ نے جواب دیا "میں ایرک سے کہوں گا کہ وہ آپ سے رابطہ کرے۔ کیا میں یہ کروں؟ وہ اچھا نوجوان ہے ... میں ایرک سے کہوں گا کہ وہ آپ سے رابطہ کرے۔"
پرابوو نے کہا "ہم بہتر جگہ تلاش کریں گے". ٹرمپ نے دوبارہ کہا "میں ایرک سے کہوں گا کہ وہ آپ سے رابطہ کرے۔"
پرابوو نے وضاحت چاہتے ہوئے کہا "ایرک یا ڈونلڈ جونیئر؟"
ایرک اور ان کے بھائی ڈونلڈ جونیئر دونوں ٹرمپ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں۔ اس فاؤنڈیشن کے کاروبار میں ریئل اسٹیٹ، ضیافت کی خدمات اور بلاک چین پر مبنی منصوبے شامل ہیں۔ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کے باہر ایک گولف کلب بھی ان کے زیر انتظام ہے۔