سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ غزہ میں دوران جنگ نسل کشی کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرائے بغیر چھوڑ دیا جائے۔
کینیڈا کے ایک ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا امن کا یہ بالکل مطلب نہیں ہے کہ اس سے جرائم کے مرتکب افراد کو سزا نہیں ملے گی۔
اپنے انٹرویو میں سانچیز نے کہا ہم اس وقت تک اسرائیل کے خلاف اپنی پابندیوں کو جاری رکھیں گے جب تک امن کا عمل مکمل طور پر اور یقینی طور پر آگے نہیں بڑھتا۔
انہوں نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا کہ جن لوگوں نے بھی غزہ میں نسل کشی میں کردار ادا کیا ہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لازماً آنا ہوگا کیونکہ جنگ بندی کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں ان کے جرائم سے معافی مل جائے۔
انہوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی تھی کیا وہ اس امر کا امکان دیکھتے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگ بندی معاہدے کے بعد نسل کشی کے سلسلے میں الزامات سے نجات مل جائے گی۔
یاد رہے سپین یورپ کے ان ملکوں میں سے ایک ہے جو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سخت ناقد رہے ہیں اور پچھلے ماہ ستمبر میں سپین کے پراسیکیوٹر نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے تحقیقات مکمل کی ہیں۔ نیز سپین بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی حمایت کرتا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان دونوں اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری پچھلے سال جاری کیے تھے۔
سانچیز نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں پیر کے روز اس عالمی امن سربراہ کانفرنس میں شرکت کی۔ جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی اہم یورپی و ایشیائی ملکوں کے سربراہان نے بطور خاص شرکت کی۔
یاد رہے غزہ میں اسرائیل کی اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 67869 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔