غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے نے ایک غیر معمولی سیاسی منظرنامہ پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ کے دو سابق ڈیموکریٹ صدور جو بائیڈن اور بل کلنٹن نے اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور تعریف کی ہے، جنہوں نے اس معاہدے کی کامیاب تکمیل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ معاہدہ پیر کے روز قاہرہ میں بین الاقوامی شرکاء کی موجودگی میں طے پایا۔
رواں سال منصب صدارت سے سبکدوش ہونے والے جو بائیڈن نے ایک پیغام میں کہا کہ“میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو نئے جنگ بندی معاہدے کو مکمل کرنے کی کامیاب کوشش پر سراہتا ہوں"۔
I am deeply grateful and relieved that this day has come – for the last living 20 hostages who have been through unimaginable hell and are finally reunited with their families and loved ones, and for the civilians in Gaza who have experienced immeasurable loss and will finally…
— Joe Biden (@JoeBiden) October 13, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی حمایت اور واشنگٹن کے بین الاقوامی شراکت داروں کی بہ دولت مشرقِ وسطیٰ اب امن کی راہ پر گامزن ہے"۔
بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کی سابقہ حکومت نے "قیدیوں کی واپسی، فلسطینی شہریوں کو ریلیف پہنچانے اور اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے انتھک کوششیں کیں"۔
سابق صدر بل کلنٹن نے بھی “ایکس” پر جاری بیان میں لکھا کہ"ٹرمپ، ان کی انتظامیہ، قطر اور دیگر علاقائی فریقین اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں اس کامیاب کوشش پر سراہا جائے جس سے یہ معاہدہ ممکن ہوا"۔
کلنٹن نے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے اپیل کی کہ وہ "اس نازک لمحے کو پائیدار امن میں تبدیل کریں۔اگر دونوں فریق امریکہ کی معاونت سے سنجیدگی سے کام کریں تو یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے"۔
My statement on the ceasefire between Israel and Hamas: pic.twitter.com/lN0xQxGHfT
— Bill Clinton (@BillClinton) October 13, 2025
سیاسی منظر میں نایاب ہم آہنگی
ٹرمپ کے دو بڑے ناقدین کی جانب سے یہ غیر متوقع تعریف امریکی سیاست میں ایک نادر واقعہ قرار دی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تبدیلی اس امر کی عکاس ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اب ایک ایسی مشترکہ ترجیح بن چکا ہے جو جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ “ٹرمپ کا امن منصوبہ” ابھی بھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے، تاہم جنگ بندی کا یہ معاہدہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنے روایتی ثالثی کردار کی بحالی کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ معاہدہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد ان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو 20 نکاتی امن منصوبے پر آمادہ کیا، جس میں تمام قیدیوں کی رہائی، غزہ کی تعمیرِ نو اور جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے وسیع مذاکرات کا آغاز شامل ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پائیدار امن کی راہ ابھی طویل اور دشوار ہے۔ نیتن یاھو جو آئندہ برس ہونے والے اسرائیلی انتخابات اور اپنی جماعت کے دائیں بازو کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، کسی بھی وقت اپنے موقف میں تبدیلی لا سکتے ہیں، خصوصاً اگر اندرونِ ملک جنگ کے خاتمے کی مخالفت میں اضافہ ہوا تو وہ اپنی پالیسی بدل سکتے ہیں۔