اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ وہ تمام قیدیوں کی لاشیں واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
یہ بات انہوں نے منگل کے روز تل ابیب کے رابن بیلنسن میڈیکل سینٹر میں رہا ہونے والے قیدیوں سے ملاقات کے دوران کہی۔ نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ "میں نے وعدہ کیا تھا کہ قیدیوں کو واپس لاؤں گا، اور میں نے اپنا وعدہ وفا کیا"۔
انہوں نے کہا کہ "حکومت کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی تاکہ باقی لاشیں بھی واپس لائی جا سکیں"۔ ان کا کہنا تھا کہ "چند گھنٹوں میں باقی قیدیوں کی لاشوں سے متعلق خبریں متوقع ہیں"۔
بن گویر کی دھمکی
ادھر اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قیدیوں کی لاشیں فوری طور پر واپس نہ کی گئیں تو غزہ کے لیے امداد بند کر دی جائے گی۔
انہوں نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہاکہ "میں وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ حماس کو واضح الٹی میٹم دیں۔ اگر تم نے ہمارے تمام فوجیوں کی لاشیں فوراً واپس نہ کیں اور تاخیر جاری رکھی، تو ہم غزہ جانے والی تمام امدادی فراہمی روک دیں گے"۔
حماس کی جانب سے چار لاشوں کی واپسی کی اطلاع
ایک مصدقہ ذریعے کے مطابق حماس نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ منگل کی شب دس بجے چار مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کرے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ’يسرائيل هيوم‘ کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ ثالثوں نے اسرائیل کو آگاہ کیا ہے کہ حماس باقی لاشیں حوالے کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
معاہدے کے خطرے کی گھنٹی
ایک اسرائیلی عہدیدار نے’ایکسیس‘ سے گفتگو میں کہا کہ "حماس سمجھتی ہے کہ ہم اس معاملے میں نرمی دکھائیں گے، مگر ایسا نہیں ہوگا"۔
اسرائیلی سیاسی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے باقی لاشیں واپس نہ کیں تو موجودہ معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔
حماس کا مؤقف
حماس نے کہا ہے کہ کچھ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ان کی تدفین کے مقامات معلوم نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل کو اب تک چار قیدیوں کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ کل 28 لاشیں غزہ میں اکتوبر 2023 سے موجود ہیں۔
اسرائیل نے تمام لاشیں واپس نہ ملنے پر رفح کراسنگ بند کر دی تھی۔ اگر آج مزید چار لاشیں واپس کی جاتی ہیں تو بھی بیس لاشیں بدستور غزہ میں موجود ہوں گی۔