جنگ بندی کے بعد غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ کیا جائے : سربراہ یواین ریلیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ قحط زدہ غزہ میں جنگ بندی ہوجانے کے بعد اب انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ کیونکہ اب بھی ہزاروں ضرورت مندوں کے لیے امدادی سامان سے لدے سینکڑوں ٹرکوں کی ضرورت ہے وہاں ابھی یہ ٹرک نظر نہیں آرہے ہیں۔

اس امر کا اظہار بدھ کے روز یو این کے انسانی امور کے لیے انڈر سیکرٹری ٹام فلیچر نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا غزہ کے لاکھوں لوگوں کو مزید اموات اور مسائل سے بچانے کے لیے ہر روز ہزاروں امدادی سامان لانے والی گاڑیوں کو ہر ہفتے غزہ میں داخلے کی اجازت دینا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا انسانی امور کے شعبے کے پاس غزہ میں لے جانے کے لیے 190000 میٹرک ٹن وزنی سامان موجود ہے۔ ہم منتظر ہیں کہ ہمیں اندر لے جانے دیا جائے۔ کیونکہ یہ تمام سامان غزہ کے لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے ہے اور اہل غزہ کو اس کی فوری ضرورت ہے۔

یاد رہے اسرائیل کی غزہ میں لڑی جانے والی جنگ کے دوران کم از کم بائیس لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ان میں سے لاکھوں انسانی ساختہ قحط کا شکار ہیں۔ غذائی قلت کا شکار فلسطینیوں میں ان کے شیر خوار بچے تک شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ہر روز غزہ میں امدادی سامان کے چھ سو ٹرک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے اس ذمہ دار کا کہنا ہے کہ یہ کافی نہیں ہیں۔ کیونکہ غزہ میں یہ انتہائی ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت پچاس کی تعداد میں یورپی و دیگر ملکوں کی این جی اوز غزہ میں امدادی کاموں کے لیے موجود ہیں لیکن سامان کی ترسیل ضرورت کے مقابلے میں کافی کم ہے۔

ٹام فلیچر نے کہا ایک جانب خوراک کی قلت ہے تو دوسری جانب اب جنگ بندی ہو چکنے کے بعد بھی غزہ میں آتشیں واقعات ہو رہے ہیں جبکہ خوراک لوٹ کر بھاگنے کے واقعات بھی درپیش ہیں۔ ان وجوہات سے بھی امدادی سامان اور خوارک کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اگر یومیہ صرف 60 ٹرک امدادی سامان اور خوراک غزہ میں لا سکیں گے تو یہ مسائل کم نہیں ہوں گے۔ بھوک سے مرنے والے لوگ ہی خوراک پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

ٹام فلیچر نے مغربی ملکوں کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کی حمایت اور رفح راہداری کھولنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ جمعرات کے روز تاخیر سے ہی سہی اسرائیل معاہدے پر عمل کرتے ہوئے راہداری کھول دے گا۔ جسے اس نے ابھی تک التوا میں رکھا ہوا ہے کہ حماس نے ہلاک شدہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں ملبے سے تلاش کر کے ابھی اسرائیل کے حوالے نہیں کی ہیں۔

انسانی امور کے انڈر سیکرٹری نے کہا رفح راہداری جب کھلی گی تو طبی ضروریات کے لیے اس راستے سے مریضوں اور زخمیوں کو باہر لے جانا ترجیحاً شروع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات چیت ہو چکی ہے۔

انہوں نے معاہدے پر عمل کے حوالے سے سنجیدگی اور تعاون کے بارے میں ایک سوال پر کہا ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا اس جنگ بندی معاہدے کے پیچھے کھڑی ہو۔ تاکہ جنگ بندی کا معاملہ پائیداری اختیار کر سکے اور معاہدے پر پوری طرح عمل ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا غزہ میں ہمیں مکمل امن چاہیے۔ تاکہ ہم جاری آپریشنز کو ممکن بنا سکیں۔

10 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ بندی کے بعد سب سے پہلے حماس نے اسرائیل کے زندہ قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہو چکے قیدیوں کی لاشوں کو تلاش کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک کم از کم 8 لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

اسرائیل نے انتباہ کیا ہے کہ ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام حماس نے تیز نہ کیا تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے رفح راہداری نہیں کھولی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں