روس یوکرین میں جنگ ہار رہا ہے، غزہ کی طرح ٹرمپ یوکرین کی جنگ بھی ختم کرائیں گے:بورس جانسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کی طرح یوکرین میں بھی امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے غزہ کی طرح یوکرین میں بھی جلد امن لا سکیں گے۔

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

جب ان سے ہوچھا گیا کیا اب ٹرمپ جنگ کو ختم کرا سکیں گے تو بورس جانسن نے کہا جس طرح انہوں نے حماس اور نیتن یاہو کے ساتھ غزہ میں کیا ہے اسی طرح کا معاہدہ انہیں پیوتن کے ساتھ یوکرین کے حوالے سے بھی کرنا ہے۔ کیونکہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یوکرین آزاد ملک کی طرح رہے۔

بورس جانسن نے کہا ایک چیز کو پیوتن بھی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا اصل مقصد کیا ہے کہ وہ یوکرین کے مسئلے کا بھی حل چاہتے ہیں اور جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم برطانیہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر روسی حملے کے بعد سب سے پہلے یوکرین کا دورہ کیا تھا اور وہ کہتے ہیں ان کا آج بھی اسی طرح یقین ہے کہ یوکرین کا اقتدار اعلیٰ قائم رہنا چاہیے اور اس کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا ہم بہت جلد اس مسئلے کا حل نکال لیں گے کہ ہم اس مسئلے کا جتنا جلدی حل نکالیں اتنا ہی مفید ہوگا۔ ہمیں اپنی کوششوں کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔

یاد رہے اس جنگ کو اب تک ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ یوکرین کو اجازت دی جائے کہ وہ روسی فوجی اڈوں کو ٹارگٹ کرے جہاں سے یوکرین پر بمباری کی جا رہی ہے اور اس کے شہروں کو تباہ کیا جا رہا ہے کیونکہ ہر روز روسی بم اور میزائل یوکرین پر داغے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ انہی روسی فوجی اڈوں سے آرہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ روسی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اجازت ملے۔

جانسن نے مزید کہا یورپی ملکوں کی زمینی افواج اور اتحادی ممالک یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کی افواج کو یوکرین کے لیے تعینات کیا جائے کہ اپنے ایک اتحادی کی مدد کے لیے یوکرین کی سرزمین پر آنے کے لیے کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہوتا ہے اس لیے یوکرین کو بھی اس کی ضرورت ہے کہ فوج اب زمین پر اترے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے حالات نہیں ہیں کہ لڑکے روس میں جا کر لڑیں۔ تاہم یہ تو ہو سکتا ہے کہ ہم یوکرین میں لوگوں کو بھیجیں تاکہ پیوتن کو یہ سمجھ آئے کہ یوکرین کے ساتھ اس کے سارے اتحادی کھڑے ہیں۔

انہوں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ روس چونکہ بڑا ملک ہے اس لیے اس کی فتح کو روکا نہیں جا سکتا۔

بورس جانسنن نے کہا روس جنگ ہار رہا ہے۔ ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصے سے روس یوکرین پر قبضہ کرنا چاہ رہا ہے لیکن صرف 20 فیصد علاقے پر قبضہ کر سکا ہے جبکہ یوکرین نے روس کی نصف آئل ریفائنریز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ امریکہ یوکرین کی اس جنگ کا سارا بوجھ اکیلے نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی امریکہ یہ سارا کچھ اپنے طور پر کر سکتا ہے۔ ہم یورپی ملکوں کو اس سلسلے میں اپنی حمایت کو عملی طور بڑھانا ہوگا تاکہ روس پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں