حوثی چیف آف سٹاف الغماری کے مارے جانے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

حوثی گروپ نے الغماری کی جگہ یوسف المدنی کو اپنا چیف آف سٹاف مقرر کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے جمعرات کو اپنے چیف آف سٹاف محمد عبدالکریم الغماری کی موت کا اعتراف کیا ۔ اس سے قبل صنعاء کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ان کے قتل کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ حوثی گروپ نے محمد الغماری، ان کے 13 سالہ بیٹے حسین اور اس کے کچھ ساتھیوں کے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے جانے کا اعلان کیا۔ ان حملوں میں گروپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ حملے ’’ طوفان الاقصی ‘‘ کی لڑائی کے دو سال کے دوران کیے گئے۔

گروپ کی طرف سے جاری کردہ طویل اور مبہم بیان میں اشارہ کیا گیا کہ الغماری کو ان کے جہادی کام کے دوران اور اپنے مذہبی فریضے کی انجام دہی کے دوران القدس کی راہ پر جام شہادت نوش کرنے والے عظیم شہدا کے قافلے میں شامل ہونے کا موقع مل گیا۔ ویب سائٹ ’’ ڈیفنس لائن ‘‘جو سیکورٹی اور عسکری امور میں مہارت رکھتی ہے کے مطابق الغماری 19 اگست کو اسرائیلی فضائی حملے میں اس وقت شدید زخمی ہو گئے تھے جب ان کا قافلہ صنعاء کے قریب ایک پہاڑی علاقے سے گزر رہا تھا۔ اس حملے کے دوران انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کھو دی اور کئی دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ویب سائٹ نے وضاحت کی کہ انہیں اسی دن نشانہ بنایا گیا جب اسرائیل نے حوثی حکومت اور دیگر مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کے نتیجے میں دارالحکومت صنعا کے جنوب میں واقع حدہ کے علاقے میں غیر تسلیم شدہ حوثی حکومت کے سربراہ اور نو وزراء کی موت واقع ہوئی تھی۔

ویب سائٹ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گروپ نے جان بوجھ کر اس کی موت کا اعلان کرنے میں تاخیر کی۔ ذرائع نے مزید کہا کہ فضائی حملہ انتہائی درست تھا اور اس نے الغماری کے قافلے اور ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گروپ کی ’’ جہادی بٹالین‘‘ کے کئی ارکان مارے گئے۔ حملے کے بعد سے حوثی ذرائع ابلاغ نے الغماری سے منسوب تحریری بیانات شائع کرنے کا سہارا لیا ہے تاکہ ان کی موت کو جھٹلایا جا سکے اور ان کی صحت کی حالت کو چھپایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق الغماری کا بیٹا حسین حملے کے دن ہی مارا گیا تھا اور حوثیوں نے اس کی موت کو ان کے خاندان سے چھپایا تھا۔ الغماری کے محافظوں کے ارکان بھی حملے کے دوران مارے گئے اور کچھ بعد میں مر گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے میں الغماری، اس کے ساتھیوں اور حوثی عناصر کو نشانہ بنایا ، جن میں سے کچھ حملے میں مارے گئے۔ حوثی کارکنوں نے الغماری، اس کے بیٹے اور اس کے کچھ ساتھیوں کی تصاویر اور نام گردش میں رکھے جو اس حملے میں مارے گئے تھے۔ صعدہ گورنری کے علاقے ضحیان سے تعلق رکھنے والے مرتضی زید عبدالمجید قاسم الحمران اور عمران گورنریٹ کے علاقے قفلہ سے عماد علی یحییٰ احمد الاعضب کے نام بھی پھیلائے جاتے رہے۔

14 جون کو اسرائیلی فضائی حملوں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع ضلع السبعین کے حدہ کے علاقے میں الغماری کے ہیڈکوارٹر میں سے ایک کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ صدارتی کمپلیکس کے مغرب میں سکیورٹی سکوائر کے اندر ایک عمارت سے ہوا۔ ’’ ڈیفنس لائن ‘‘ کے مطابق الغماری کے محافظوں کے ارکان نشانہ بننے والی عمارت میں مقیم تھے۔ یہ حملہ الغماری کے زیر استعمال گاڑی کو گھر کے قریب جاتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد کیا گیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر میں ان کی ایک بیوی رہتی ہے۔

محمد الغماری، اصل میں حجہ گورنریٹ سے ہے اور جہادی نام ہاشم سے جانے جاتے ہیں اور حوثی جہادی ڈھانچے کا ایک نمایاں رکن ہیں ۔ انہوں نے فوجی اور نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ ایران اور دیگر دارالحکومتوں میں میزائل انجینئرنگ کے کورسز کیے تھے۔ گروپ نے دسمبر 2016 میں الغماری کو حوثی مسلح افواج کا چیف آف سٹاف مقرر کیا تھا۔ انہیں سپریم سکیورٹی کمیٹی کا رکن بھی مقرر کیا گیا تھا جسے 7 فروری 2015 کو حوثی سپریم انقلابی کمیٹی کے جاری کردہ فیصلوں کی بنیاد پر گروپ کی طرف سے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس گروپ کی جانب سے "آئینی اعلامیہ" کا اعلان کرنے کے بعد ملک کو تحلیل کر دیا گیا اور ایوان کو تحلیل کر دیا گیا۔

الغماری بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل حوثی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ وہ دسمبر 2021 کے وسط سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کے تحت تھے۔ سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام کو خطرہ بننے والی حوثی فوجی مہموں میں شرکت اور ان کی قیادت کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے مئی 2021 سے ان پر عام شہریوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے اور خانہ جنگی کو طول دینے، انسانی مصائب کو بڑھاوا دینے اور امن کے لیے خطرہ بننے پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ الغماری نے لبنانی حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام کیمپوں میں جدید فوجی تربیت حاصل کی۔ اسی تربیت کی بنا پر وہ جدید ترین ہتھیاروں کے نیٹ ورکس بشمول ڈرون، بیلسٹک میزائل اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کا انتظام کر سکے۔ انہوں نے حوثی گروپ کے اندر ایک مربوط جنگی نظام بنانے اور فوجی تیاری اور فیلڈ آپریشنز میں اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔ الغماری کو ماریب کی فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی اور اس وقت عدن کی خصوصی فوجداری عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں