قطر کی وزارت خارجہ نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یہ فیصلہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران کیا گیا، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ دفاعی اور سکیورٹی حکام نے شرکت کی۔
قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ قطر اور ترکیے کی مشترکہ ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور افغانستان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں مزید ملاقاتیں کریں گے تاکہ ایک مستقل اور مؤثر مکینزم تشکیل دیا جا سکے جو سرحدی سلامتی، اعتماد سازی اور مستقبل میں امن کے قیام کو یقینی بنائے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ جنگ بندی نہ صرف فوری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے گی بلکہ یہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بھی بنے گی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات میں کمی آئے گی اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، جس میں تعاون اور مفاہمت کو ترجیح دی جائے گی۔
یاد رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز دوحہ میں قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں منعقد ہوا تھا۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ اعلیٰ سکیورٹی حکام نے ان کی معاونت کی۔ افغان وفد کی سربراہی طالبان رجیم کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جمعہ کے روز پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان فائر بندی میں توسیع پر اتفاق کیا گیا تھا، جو حالیہ جنگ بندی کی بنیاد بنا۔
قطر کا کردار ایک بار پھر بطور ثالث نمایاں رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر خطے میں قیامِ امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔