برطانوی حکومت اپنی مسلح فوج کو نئے اختیارات دینے کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جن کے تحت انہیں کسی بھی ڈرون کو مار گرانے کی اجازت ہو گی جو فوجی اڈوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ اقدام اہم تنصیبات کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر روسی سرگرمیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کیا گیا۔
امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی وزیرِ دفاع جون ہیلی جلد ہی ملک کے اہم ترین فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کریں گے، جس میں فوج کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ کسی بھی ڈرون کو نظر آتے ہی فوراً نشانہ بنا سکے۔ اس سے قبل یہ اقدام صرف انتہائی ہنگامی حالات میں ہی کیا جا سکتا تھا۔
نئی منصوبہ بندی کے تحت یہ اختیارات پہلے عسکری ٹھکانوں پر نافذ کیے جائیں گے، اور بعد ازاں حساس شہری مقامات جیسے ہوائی اڈوں تک توسیع پر غور کیا جائے گا۔
جدید نظام
برطانوی افواج اس وقت ڈرونز سے نمٹنے کے لیے جدید نظام استعمال کر رہی ہیں، جو ان کے سگنلز کا سراغ لگانے اور پرواز کے راستے پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم مجوزہ ترامیم کے بعد فوجیوں اور وزارتِ دفاع کی پولیس کو ضرورت پڑنے پر انہیں فوراً مار گرانے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب یورپ میں نیٹو کی سرحدوں کے قریب مشتبہ فضائی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
حال ہی میں برطانوی فضائیہ کے طیاروں نے امریکی اور نیٹو افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ نگرانی مشن انجام دیا، جو پولینڈ، رومانیہ اور ایسٹونیا کی فضاؤں میں روسی دراندازیوں کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔
ان واقعات کے باعث ہوائی پروازوں میں خلل پڑا اور کئی یورپی ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کرنا پڑے۔
اگرچہ ان فضائی واقعات کی ذمہ داری کے الزامات روس پر عائد کیے جا رہے ہیں، لیکن ماسکو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔