دماغی سرطان کھوپڑی اور جسم کے مدافعتی نظام کے لیے نقصان دہ ہے
پہلی بارسائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ایک غیر متوقع طریقہ دریافت کیا ہے، جس کے ذریعے گلیو بلاستوما دماغی کینسر (جو دماغ کے سب سے عام کینسر کی قسم ہے) خود کھوپڑی پر حملہ کرتا ہے، جسم کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے اور ہڈی کے گودے میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ یہ نتائج ایک حالیہ مطالعے میں شائع ہوئے جو Nature Neuroscience جریدے میں شائع ہوا اور New Atlas ویب سائٹ نے رپورٹ کیا۔
سرطان زدہ رسولی
البریٹ آئنسٹائن میڈیکل کالج اور مونٹیفیوری آئنسٹائن جامع کینسر سینٹر (MECCC) کے محققین نے چوہوں میں دو قسم کے گلیو بلاستوما رسولیوں پر ایک جدید مطالعہ کیا، اور یہ مشاہدہ کیا کہ یہ رسولی صرف دماغ پر حملہ نہیں کرتا بلکہ خود کھوپڑی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
اس سے ہڈی اور کھوپڑی کے گودے کو جوڑنے والے چھوٹے چینلز کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جس کے ذریعے مدافعتی خلیات گزر کر مدافعتی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں اور رسولی کی بڑھوتری کو تیز کر دیتے ہیں۔
واحدہ خلیہ آر این اے سیکوئنسنگ (Single-cell RNA sequencing) کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے محققین نے دریافت کیا کہ رسولی کھوپڑی کے گودے کے ماحول کو بنیادی طور پر بدل دیتا ہے۔
یہ اسے سوزش کو بڑھانے والے نیوٹروفِل خلیات سے بھر دیتا ہے، جبکہ وہ دوسرے خلیات کو تباہ کر دیتا ہے جو سرطان سے لڑنے والے اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔
محقق رچرڈ اسٹینلی نے کہا: کھوپڑی اور دماغ کو جوڑنے والے چینلز ایک پل کی طرح کام کرتے ہیں جو سوزش کو بڑھانے والے خلیات کو رسولی تک بہچنے دیتا ہے، جس سے رسولی کی جارحیت بڑھ جاتی ہے اور یہ اکثر علاج کے قابل نہیں رہتا۔
ٹاپیکل ادویات کا خطرہ
دوسرے تجربے میں محققین نے ہڈی کی کمزوری کے علاج میں عام استعمال ہونے والی دو دوائیں، زولڈیرونک ایسڈ اور ڈینوسوماب استعمال کیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دوائیں رسولی کے باعث پیدا ہونے والی ہڈی میں تبدیلیوں پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔
اگرچہ دونوں ادویات نے ہڈی کے کٹاؤ کو روکا، لیکن زولڈیرونک نے ایک قسم کے ٹومر کی نشوونما کو تیز کر دیا، اور دونوں ادویات نے اینٹی-پی ڈی-ایل1 (anti-PD-L1) مدافعتی علاج کی تاثیر کو ختم کر دیا، جو عام طور پر ٹومر سے لڑنے والے ٹی خلیات کو فعال کرتا ہے۔
مرض کی نوعیت کی نئی تفھیم
سٹڈی میں شریک ڈاکٹر جینان بہنان نے کہا کہ یہ دریافت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ موجودہ بہت سی علاجی تدابیر جو گلیو بلاستوما رسولی کو مقامی (لوکل) بیماری سمجھ کر علاج کرتی ہیں، جو ناکام رہتی ہیں۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ ایک جسمانی (سسٹیمک) مرض ہے جو مدافعتی نظام اور ہڈی دونوں پر اثر ڈالتا ہے۔
گلیو بلاستوما رسولی دماغ کے سب سے مہلک سرطان میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ تشخیص کے بعد صرف سات فیصد سے کم مریض پانچ سال سے زیادہ زندہ رہ پاتے ہیں، جبکہ اوسط زندگی کا دورانیہ صرف تقریباً 14اعشاریہ6 ماہ ہوتا ہے۔
محققین امید کرتے ہیں کہ یہ نتائج نئے علاجی طریقوں کے دروازے کھولیں گے جو کھوپڑی کے گودے میں مدافعتی توازن کو بحال کریں اور ٹومر کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ ہڈی کے چینلز کو ایک "چھپی ہوئی راہ" کے طور پر استعمال کر کے جسم کے اندر حملہ کرے۔
-
الزائمر کا پروٹین خلیاتی سرطان کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت بڑھانے میں مؤثر
کینسر اور الزائمر بیماری کے درمیان متضاد تعلق دریافت کر لیا گیا
ایڈیٹر کی پسند -
درد کے خاتمے کی دوا سرطان کے خلاف لڑنے کی خصوصیات دکھانے لگی: تحقیق
ایبوپروفین (Ibuprofen) دنیا میں سر درد، پٹھوں کے درد اور خواتین کی ماہواری کے ...
ایڈیٹر کی پسند -
سفید یا بھورا … کیا انڈے کا رنگ اس کی غذائیت کا تعین کرتا ہے؟
ہیلتھ لائن ویب گاہ کے مطابق انڈے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عام اور استعمال ہونے ...
ایڈیٹر کی پسند